صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 344
صحيح البخاری جلد ۲ ممم ١٢ - كتاب الخوف ۵۶۱،۵۷۰) تستر : اهواز کے شہروں میں سے ایک شہر ہے جو ۲۰ ھ میں بعہد خلافت ثانیہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں فتح ہوا تھا ۔ (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۶۱) ۵۷۰، فوج کے امیر حضرت ابو موسیٰ اشعری تھے اور حضرت ضرت اللہ انس مقدمة الجیش کے افسر تھے۔ تستر میں ہرمزان نے اپنے آپ کو حضرت انس کے امان دینے پر مسلمانوں کے حوالے کر دیا تھا اور پھر حضرت عمر کے پاس جا کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبه، کتاب التاريخ، تتمة باب رقم ما ذكر في تستر ، جزء صفحہ۳) بَابه : صَلَاةُ الطَّالِبِ وَالْمَطْلُوبِ رَاكِبًا وَإِيْمَاءً جو کوئی دشمن کے پیچھے لگا ہو یا دشمن اس کے پیچھے لگا ہو ، سوار رہ کر اور اشارے سے نماز پڑھنا وَقَالَ الْوَلِيدُ ذَكَرْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ صَلَاةَ اور ولید (بن مسلم ) نے کہا: میں نے اوزاعی سے شُرَحْبِيْلَ بْنِ السِّمْطِ وَأَصْحَابِهِ عَلَى شرحبیل بن سمط اور ان کے ساتھیوں کا سواری کی پیٹھ ظَهْرِ الدَّابَّةِ فَقَالَ كَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا پر نماز پڑھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہمارا بھی یہی إِذَا تُحوّفَ الْفَوْتُ وَاحْتَجَّ الْوَلِيدُ مذہب ہے۔ بشرطیکہ وقت نکل جانے کا خوف ہو اور سے لَا يُصَلِّينَ ولید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا استدلال کیا ہے کہ کوئی تم میں سے عصر کی نماز نہ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ۔ پڑھے مگر بنی قریظہ میں ۔ ٩٤٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ۹۴۶: عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا، بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ کہا کہ جویریہ ( بنت اسماء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ نافع سے ، نافع نے ( حضرت عبداللہ ) بن عمر سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنَ کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ الْأَحْزَابِ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا جنگ احزاب سے لوٹے؛ ہم سے فرمایا: کوئی بھی عصر کی فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ میں ۔ پھر بعض کو عصر کا وقت فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تُصَلِّي راستے میں ہی آ گیا اور بعض نے کہا: ہم وہاں پہنچ کر ہی حَتَّى نَأْتِيَهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ نماز پڑھیں گے۔ بعضوں نے (مجھ سے) کہا: نہیں بلکہ يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہم نماز پڑھ لیتے ہیں ۔ آپ کا یہ ۔ آپ کا یہ مطلب نہیں تھا ۔