صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 340
صحيح البخاری جلد ۲ ١٢ - كتاب الخوف پاؤں پر کھڑے ہوں یا سواری پر بیٹھے ہوں۔رِجَالًا کے معنوں کی تخصیص کر کے یہ سمجھایا گیا ہے کہ یہاں پیدل چلنے کی حالت میں نماز پڑھنا مراد نہیں۔بلکہ وہ صورت مراد ہے جس کی صراحت مجاہد اور حضرت ابن عمر کی محولہ بالا روایتوں نے کی ہے اور جو آگے آئیں گی۔روایت نمبر ۱۴۲ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالت خوف میں مقتدی کی با جماعت نماز ایک ایک رکعت ہوگی اور امام کی دورکعتیں لیکن وہ سفر جو جنگی خطروں سے خالی ہو، اس میں باجماعت نماز امام اور مقتدیوں کی دورکعت ہی ہوگی، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور احادیث و آثار سے ثابت ہے۔ارشادِ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ سے مطلق سفر مراد نہیں بلکہ وہ سفر مراد ہے جس کا تعلق آیت إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يُفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا کا مصداق ہو۔اس فرق کی طرف توجہ دلانے کے لئے امام بخاریؒی ابواب صلوۃ الخوف کا عنوان قائم کر کے اس کے مناسب حال روایتیں لائے ہیں۔ابو داؤد، نسائی اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس کی جو روایت اس بارہ میں نقل کی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: فَرَضَ اللهُ الصَّلوةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمُ فِى الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً۔* اللَّهُ تعالى نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حضر میں چار رکعتیں، سفر میں دورکعتیں اور خوف میں ایک رکعت نماز مقرر کی ہے۔اس سے یہی باجماعت نماز مراد ہے جو مقتدیوں کو خوف کی حالت میں امام کے پیچھے پڑھنی ہوتی ہے۔روایت نمبر ۹۴۳ کے آخری الفاظ إِن كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِکَ سے یہ مراد ہے کہ اگر دشمن زیادہ ہوں اور خطرہ بہت ہو تو پھر انہیں اجازت ہے کہ اپنی اپنی جگہ پر جس حالت میں بھی ہوں اور جس طرح ہو سکے نماز پڑھ لی جائے۔مجاہد کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: إِذَا اخْتَلَفُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْإِشَارَةُ بِالرَّأْسِ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۵۶) جب مٹھ بھیڑ ہو اور وہ مل جل جائیں تو پھر ( ذکر الہی اور ) سر کے اشارے سے ہی نماز ادا کی جائے۔نافع نے اپنی روایت کی سند میں "اِبْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ عا کے الفاظ زیادہ کئے ہیں۔جن سے ظاہر ہے کہ نافع کی روایت مرفوع ہے، برخلاف مجاہد کی روایت کے جو موقوف ہے۔اس روایت میں دوسری زیادتی یہ ہے: وَإِن كَانُوا اَكْثَرَ مِنْ ذلک اگر دشمن تعداد میں زیادہ ہو اور خطرہ بڑھ جائے۔امام مسلم نے بھی حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت نمبر ۹۴۲ نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: فَإِذَا كَانَ خَوْفٌ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَلَّ رَاكِبًا اَوْ قَائِمًا تُؤْمِيُّ إِيْمَاءً۔(مسلم۔كتاب صلاة المسافرين۔باب صلاة الخوف) اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو سواری کی حالت میں یا کھڑے کھڑے اشارے سے پڑھ لے۔امام بخاری نے عنوانِ باب ۲ میں اور متعلقہ روایت کے ضمن میں بھی ان حوالوں کی طرف اشارہ کر کے انتہائی خوف کی حالت میں اشارے سے نماز پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ نماز فریضہ کی ادائیگی حالت خوف میں بھی باجماعت ہونی چاہیے۔بجز اس کے کہ خطرہ کی وجہ سے یہ نا ممکن ہو تو ایسی حالت میں قضاء نہیں کرنی چاہیے؛ بلکہ اپنی جگہ سواری پر یا کھڑے ہی اسے پڑھ لیا جائے۔اگر بوجہ شدت خوف یہ بھی ناممکن ہو تو پھر ذکر الہی اور اشارے سے نماز پڑھ حل الله لے۔قضاء نہ ہونے دے۔ابو داؤد کتاب الصلاة باب من قال يصلي بكل طائفة ركعة ولا يقضونه) (نسائى۔كتاب صلاة الخوف۔بابا) (مسلم کتاب صلاة المسافرين وقصرها باب صلاة المسافرين وقصرها)