صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 19 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 19

اری جلد ۲ ۱۹ ١٠ - كتاب الأذان ٦١٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ٢١٦ : مُسدّد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَعَبْدِ الْحَمِيدِ بتایا۔انہوں نے ایوب اور عبد الحمید رفیق زیادی اور صَاحِبِ الزِيَادِي وَعَاصِمِ الْأَحْوَلِ عاصم احول سے۔انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ خَطَبَنَا روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس نے ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ رَدْعَ فَلَمَّا بَلَغَ بارش اور کیچڑ والے دن ہمیں خطبہ دیا۔جب مؤذن الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ فَأَمَرَهُ أَنْ حَيَّ عَلَى الصَّلوة پر پہنچا تو انہوں نے اسے حکم دیا يُنَادِيَ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ فَنَظَرَ کہ وہ یہ پکارے: الصَّلوةُ فِي الرِّحَالِ کہ نماز اپنی الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ فَعَلَ اپنی جگہ پر پڑھ لی جائے۔اس پر لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ اس هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِّنْهُ وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ۔ذات نے کیا تھا جو اس سے بہتر تھی اور نماز جمعہ اطرافه: ۶۶۸ ۹۰۱ تشریح: واجب ہے۔اَلْكَلَامُ فِي الْآذَانِ : یہ باب بعض اختلافی مسائل حل کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔فقہاء کے ایک گروہ نے اذان کو نماز پر قیاس کر کے اس میں بولنا اور ہنسنا ناجائز قرار دیا ہے۔ایک دوسرے گروہ نے اسے جائز قرار دیا ہے۔عنوانِ باب میں دو حوالے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے لئے دئے گئے ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۲۸-۱۲۹) (عمدۃ القاری جزء ۵ صفحه ۱۲۸) تَكَلَّمَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ فِي آذَانِهِ : سلیمان بن مُر و لشکر میں اذان دے رہے تھے کہ اتنے میں انہیں کوئی بات یاد آئی تو انہوں نے دوران اذ ان اپنے غلام کے کان میں کوئی بات کہی۔امام بخاری نے جومستند حدیث پیش کی ہے اس سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ مؤذن سے ایسی بات کرنی جائز ہے۔جس کا تعلق نفس نماز کے ساتھ ہو۔جیسے نماز سے متعلق کوئی خاص اعلان کرنے کی ضرورت ہو اور یہ اجازت بھی استثنائی حالت میں ہے۔ورنہ دوران اذان باتیں کرنے اور ہنسنے کا جواز امام موصوف کے نزدیک مستند روایات سے ثابت نہیں۔خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسِ : حضرت ابن عباس نے ہمیں مخاطب کیا۔یعنی خطبہ پڑھا۔اس سے امام ابن جوزی نے استدلال کیا ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۳۹) وَانْهَا عَزْمَةٌ : لفظ عَزْمَةٌ رخصت کے مقابل پر ہے۔یعنی واجب۔کھا کی ضمیر صلوۃ جمعہ کی طرف عود کرتی یعنی اگر الصَّلوةُ فِي رِحَالِكُمُ کی اجازت نہ دی جاتی تو لوگوں کو آنے میں تکلیف ہوتی اور بعض نہ آ سکتے اور جمعہ ہے۔