صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 18
صحیح البخاری جلد ۲ ۱۸ ١٠ - كتاب الأذان يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا جانتے کہ اذان میں اور پہلی صف میں کیا (ثواب) ہے عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي اور پھر سوائے قرعہ ڈالنے کے کچھ چارہ نہ پاتے تو وہ التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا ضروری قرعہ ڈالتے اور اگر وہ جانتے کہ اول وقت ظہر فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْرًا، پڑھنے میں کیا (ثواب) ہے تو وہ بے تحاشہ اس کی طرف دوڑتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کیا اطرافه: ٦٥٤، ٧٢١، ٢٦٨٩۔ (ثواب) ہے تو وہ آتے خواہ گھسٹتے ہوئے ہی آنا پڑتا۔ تشریح : اخْتَلَفُوا فِي الْأَذَانِ : عنوانِ باب میں جس جھگڑے کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، وہ مقام قادسیہ پر ہوا تھا۔ جہاں حضرت عمرؓ کے عہد خلاء عہد خلافت میں بقیادت حضرت سعد بن ا د سعد بن ابی وقاص قادسیوں کو شکست فاش صلى الله دی گئی تھی۔ اس جنگ میں مؤذن زخمی ہو گیا جس پر اذان دینے کا منصب حاصل کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے اختلاف کیا جس کا فیصلہ قرعہ سے کیا گیا۔ روایت نمبر ۶۱۵ سے اس اختلاف کا سبب واضح ہے۔ آج مسلمان جس طرح دوسرے نیک کاموں سے رکتے ہیں ، اسی طرح اذان دینے سے بھی وہ شرماتے ہیں۔ بحالیکہ نبی ﷺ نے اذان دینے کے ثواب کو بہت بڑی اہمیت دے کر اس کی طرف خاص طور پر ترغیب دلائی ہے اور یہ اہمیت حالات کے اختلاف کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ ظہر کے وقت سخت گرمی سے گھبراہٹ اور آرام کرنے کی خواہش اور رات کے وقت سخت تاریکی یا نیند کا غلبہ وغیرہ ایسے حالات ہیں کہ جو ان کا مقابلہ کر کے نماز باجماعت پڑھنے کے لئے مسجد میں آئے ، اس کو ثواب کا مستحق ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے تقر ر اوقات نماز میں بھی ایک امتحان مد نظر رکھا ہے۔ (دیکھئے تشریح کتاب مواقيت الصلواة، باب ۲۲،۱۶) نیز کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۹-۷۰، پنجگانہ نمازیں تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے۔“ بَاب ۱۰ : الْكَلَامُ فِي الْأَذَانِ اذان کے اثناء میں گفتگو کرنا وَتَكَلَّمَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ فِي أَذَانِهِ اور سلیمان بن صرد اپنی اذان میں بولے اور حسن نے وَقَالَ الْحَسَنُ لَا بَأْسَ أَنْ يَضْحَكَ کہا: کوئی حرج نہیں کہ اذان دیتے ہوئے یا اقامت وَهُوَ يُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ۔ کہتے ہوئے ہنس پڑے۔