صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 18 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 18

جلد ۲ ۱۸ ١٠ - كتاب الأذان يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِدَاءِ وَالصَّفِ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا جانتے کہ اذان میں اور پہلی صف میں کیا (ثواب) ہے عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِی اور پھر سوائے قرعہ ڈالنے کے کچھ چارہ نہ پاتے تو وہ التَّهْجِيْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا ضروری قرعہ ڈالتے اور اگر وہ جانتے کہ اؤل وقت ظہر فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوا پڑھنے میں کیا (ثواب) ہے تو وہ بے تحاشہ اس کی طرف دوڑتے اور اگر وہ جانتے کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کیا (ثواب) ہے تو وہ آتے خواہ گھسٹتے ہوئے ہی آنا پڑتا۔اطرافه ٦٥٤، ٧٢١، ٢٦٨٩۔تشریح ہوا تھا۔جہاں حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں بقیادت حضرت سعد بن ابی وقاص قادسیوں کو شکست فاش دی گئی تھی۔اس جنگ میں مؤذن زخمی ہو گیا جس پر اذان دینے کا منصب حاصل کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے اختلاف کیا جس کا فیصلہ قرعہ سے کیا گیا۔روایت نمبر ۶۱۵ سے اس اختلاف کا سبب واضح ہے۔آج مسلمان جس طرح دوسرے نیک کاموں سے رُکتے ہیں ، اسی طرح اذان دینے سے بھی وہ شرماتے ہیں۔بحالیکہ نبی ﷺ نے اذان دینے کے ثواب کو بہت بڑی اہمیت دے کر اس کی طرف خاص طور پر ترغیب دلائی ہے اور یہ اہمیت حالات کے اختلاف کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ظہر کے وقت سخت گرمی سے گھبراہٹ اور آرام کرنے کی خواہش اور رات کے وقت سخت تاریکی یا نیند کا غلبہ وغیرہ ایسے حالات ہیں کہ جو ان کا مقابلہ کر کے نماز باجماعت پڑھنے کے لئے مسجد میں آئے ، اس کو ثواب کا مستحق ہونا چاہیے۔اِخْتَلَفُوا فِي الآذان : عنوانِ باب میں جس جھگڑے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ مقام قادسیہ پر : اللہ تعالیٰ نے تقر راوقات نماز میں بھی ایک امتحان مد نظر رکھا ہے۔(دیکھئے تشریح کتاب مواقيت الصلوۃ باب ۲۲۱۶) نیز کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ ۶۹-۷۰، پنجگانہ نمازیں تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے۔) بَابِ ۱۰ : الْكَلَامُ فِي الْأَذَانِ اذان کے اثناء میں گفتگو کرنا وَتَكَلَّمَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ فِي أَذَانِهِ اور سلیمان بن صرد اپنی اذان میں بولے اور حسن نے وَقَالَ الْحَسَنُ لَا بَأْسَ أَنْ يُضْحَكَ کہا: کوئی حرج نہیں کہ اذان دیتے ہوئے یا اقامت کہتے ہوئے ہنس پڑے۔وَهُوَ يُؤَذِّنُ أَوْ يُقِيمُ۔