صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 20 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 20

صحيح البخاري - جلد ۲ ۲۰ ١٠ - كتاب الأذان چھوڑنے کی وجہ سے گنہ گار ہوتے۔کیونکہ اس کے متعلق صریح حکم ہے۔باب نمبر اہ میں امام بخاری نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ اجازت کہ بارش کے دن گھروں میں نماز جمعہ پڑھ لو، بطور رخصت ( سہولت ) ہے، مندوب نہیں۔(دیکھئے کتاب الاذان باب ۴۱: هل يصلى الامام بمن حضر ) ابن خزیمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ مروی ہیں : آننْ أَخْرُجَ النَّاسَ وَأُكَلَفَهُمْ أَن يحْمِلُوا الْحُبْتَ مِنْ طُرُقِهِمْ إِلى مَسْجِدِ كُمْ یعنی (میں نے نا پسند کیا کہ ) میں لوگوں کو ( گھروں سے جمعہ کے لیے ) باہر نکالوں اور انہیں تکلیف میں ڈال دوں کہ وہ گندگی کو اپنے راستوں سے لے کر تمہاری مسجد میں ڈال دیں۔(صحيح لابن خزيمه، كتاب الجمعة باب امر الامام المؤذن فى اذان الجمعة بالنداء ان الصلوة في البيوت) کتاب الجمعہ میں بھی اس کا مفصل ذکر آئے گا۔(دیکھئے: کتاب الجمعہ- باب ۱۴- روایت نمبر ۹۰۱) مَنْ هُوَ خَيْرٌ سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔بَاب ۱۱ : أَذَانُ الْأَعْمَى إِذَا كَانَ لَهُ مَنْ يُخْبِرُهُ اندھے کا اذان دینا، بشرطیکہ اس کو کوئی بتانے والا ہو ٦١٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۱۷: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا ، انہوں عَنْ مَّالِكِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابْن عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے، انہوں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوْا حَتَّى نے فرمایا: ابھی رات ہوتی ہے کہ بلال اذان دیتا يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُوْمٍ ثُمَّ قَالَ وَكَانَ ہے۔سو تم کھاؤ اور پیو؛ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ اذان دے۔کہتے تھے : حضرت ابن ام مکتوم نابینا تھے۔وہ اذان نہیں دیا کرتے تھے، جب تک ان سے أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ۔کہا نہ جائے کہ تم نے صبح کر دی۔اطرافه ٦۲۰، ٦٢٣، ۱۹۱۸، ٢٦٥٦، ٧٢٤٨۔تشریح: اِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلِ : حضرت بلال نبی ﷺ کے مستقل مؤذن تھے اور وہ صبح سے کچھ پہلے اذان دیا کرتے تھے۔تاجو تہجد پڑھ رہے ہوں یا جو بھی اُٹھے نہیں، سحری کھالیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۶۲)