صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 325
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۵ ۱۱ - كتاب الجمعة باب ۳۲ إِذَا رَأَى الْإِمَامُ رَجُلًا جَاءَ وَهُوَ يَخْطُبُ أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ جب امام کسی شخص کو دیکھے کہ اس وقت آیا ہے کہ جب وہ لوگوں سے مخاطب ہے تو اسے کہے کہ وہ دورکعتیں پڑھ لے ۹۳۰: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ ۹۳۰ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار سے ، عمرو دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ جَاءَ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی۔انہوں رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ نے کہا: ایک شخص آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَصَلَّيْتَ يَا دن لوگوں سے مخاطب تھے۔آپ نے فرمایا: فلاں کیا فُلَانُ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَارْكَعْ تم نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔اطرافه: ۹۳۱، ١١٦٦۔تشریح : أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ : جمعہ کے اثناء میں بولنا منع ہے۔یہاں تک کہ کسی کو چپ کرنے کے لئے کہنا بھی جائز نہیں ( روایت نمبر ۹۳۴) مگر یہ ممانعت سامعین کے لئے مخصوص ہے۔خطیب اس کا پابند نہیں کیونکہ وہ تو بول ہی رہا ہے۔اس کو اجازت ہے کہ عند الضرورت خطبہ کے اثناء میں کسی سے مخاطب ہو۔یہ باب ایک اختلافی مسئلہ مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے۔جو اگلے باب کے لئے ایک تمہید ہے۔بَاب ۳۳ : مَنْ جَاءَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ جو اس وقت مسجد میں آئے جب امام لوگوں سے مخاطب ہو تو وہ دو ہلکی رکعتیں پڑھے :۹۳۱: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۹۳۱: علی بن عبد اللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرُو سَمِعَ سفيان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔عمر و سے مروی ہے کہ جَابِرًا قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ انہوں نے حضرت جابر سے سنا۔حضرت جابر نے کہا: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ایک شخص جمعہ کے دن ( مسجد میں ) آیا اور نبی ﷺ تقریر