صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 326
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۶ ١١ - كتاب الجمعة فَقَالَ أَصَلَّيْتَ قَالَ لَا قَالَ {قُمْ فَصَلِّ کر رہے تھے۔آپ نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ رَكْعَتَيْنِ۔اطرافه: ٩٣٠ ١١٦٦۔اس نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: (اٹھو ہیں) اور دورکعتیں پڑھو۔تشریح مَنْ جَاءَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ: امام مالک کے د و یک جائز نہیں کہ خطبہ کے دوران میں کوئی نفل پڑھے۔بلکہ خطبہ سننے کے حکم کی تعمیل نوافل کی ادائیگی پر مقدم ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۲۸) لیکن حديث: إِذَا دَخَلَ اَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسُ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فق علیہ ہے۔( بخارى كتاب التهجد - باب ۲۵ ماجاء فى التطوع مثنى مثنی روایت نمبر۱۱۶۷) (مسلم کتاب صلاة المسافرين - باب استحباب تحية المسجد بركعتين ) اگر تحیہ مسجد سے متعلقہ یہ فل ایسے ہی ہوتے ہیں کہ خطبہ کا سننا ان پر مقدم ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے اثناء میں حضرت سلیک غطفانی سے کیوں فرماتے کہ دو نفل پڑھ لیں۔آپ کا یہ ارشاد بتاتا ہے کہ دونوں حکم اپنی اپنی جگہ واجب التعمیل ہیں۔ان میں کوئی تعارض نہیں۔خطبہ کے دوران میں آنے والا اس وقت سامعین میں سے شمار ہوگا۔جب وہ پہلے تحیہ مسجد پڑھنے کے حکم کی تعمیل کرلے۔مالکیوں کا سب سے بڑا اعتماد اہل مدینہ کے اس عمل پر ہے۔جو امام مالک کے زمانہ میں تھا۔وہ خطبہ کے انشاء میں نفل نہیں پڑھا کرتے تھے۔اس سے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اہل مدینہ نے سلف صالح سے ہی اخذ کیا ہوگا۔مگر حضرت ابو سعید خدری کی نسبت یہ ثابت ہے کہ وہ یہ نفل پڑھا کرتے تھے۔(ترمذی۔کتاب الجمعة - باب ما جاء في الركعتين اذا جاء الرجل والامام يخطب ) اور وہ اہل مدینہ کے مشہور فقہاء میں سے تھے۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۲۸) بَابِ ٣٤: رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي الْخُطْبَةِ خطبہ میں دونوں ہاتھ اٹھانا ۹۳۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۹۳۲ مسدد (ابن مسرہد ) نے ہم سے بیان حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ کیا، کہا : حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَنَسٍ وَعَنْ يُوْنُسَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ عبدالعزیز سے، عبدالعزیز نے حضرت انسٹ سے روایت کی اور (حماد نے ہی ) یونس سے، یونس نے قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثابت سے ثابت نے حضرت انس سے روایت کی۔لفظ قم فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۵۲۹ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔