صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 17 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 17

۱۷ حيح البخاري - جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان پور امددگار ثابت ہو۔سُلطان کے معنی کامل غلبہ۔یہاں یہ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے جیسے عِلم کے معنی عَالِم اور سُلْطَان کے معنی خلیفہ اور جانشین کے بھی ہیں۔سُلْطَانًا نَصِيرًا کے معنی ہوئے ایسا خلیفہ جو کامل طور پر مددگار ہو۔یہ سلطان نصیر وہ مسیح موعود ہے جس کے متعلق تمام علماء سلف کو اتفاق ہے کہ اس کے ہاتھوں سے اسلام کو کل ادیان پر غلبہ حاصل ہوگا۔وہ امتی بھی ہوگا اور نبی بھی۔من گڈنگ کی ممتاز حیثیت اسے حاصل ہوگی۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو گا۔دوسرے الفاظ میں وہ سلطان نصیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مظہر ہوگا۔ایسے سلطان نصیر کی بعثت کو ختم نبوت کے منافی سمجھنا بڑی کوتاہ نظری ہے۔مذکورہ بالا ہمارا استنباط سیاق کلام سے واضح ہے اور سلف صالحہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ امت محمدیہ کے اولیاء کو بھی یہ مقام محمود حاصل ہوتا ہے۔حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں: وَهُوَ الْمَقَامُ المَحْمُودُ الَّذِى لَا يُشَارِكُهُ فِيْهِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ إِلَّا أَوْلِيَاءَ الله۔(یعنی) مقام محمود میں آنحضرت علی کے ساتھ کوئی نبی ورسول شریک نہیں، ہاں آپ کی اُمت کے اولیاء شریک ہیں۔( ہدیہ مجددیہ صفحہ ۷۰) اور حضرت شیخ عبدالرزاق کا شانی نے الفاظ فَلَهُ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ سے صراحت کی ہے کہ مقام محمود مہدی موعود کے لئے مقدر ہے اور لکھا ہے کہ وہ احکام شرعیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع ہوگا۔وَلَا يُنَاقِضُ مَا ذَكَرُ نَاهُ لِأَنَّ بَاطِنَهُ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ ہے اور ہماری یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے نقیض نہیں۔کیونکہ مہدی موعود کا باطن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا باطن ہوگا۔( شرح فصوص الحکم صفحه ۵۱ تا ۳ ۵ مطبوعه مصر ) عرض الفاظ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ سے یہ استدلال کہ چونکہ اذان ایک کامل دعوت ہے، اس لئے کسی نبی کے مبعوث ہونے کی ضرورت نہیں۔نہ صرف غلط استدلال ہے بلکہ سلطان نصیر کی بعثت ، دعوت تامہ کی تکمیل، موعودہ غلبہ کے کے لئے دعائے مسنونہ اور فیوض ربانی کا راستہ بند کرنے والا استدلال ہے۔صلى الله بَابِ ۹ : الْإِسْتِهَامُ فِي الْأَذَانِ اذان دینے کے لئے قرعہ ڈالنا وَيُذْكَرُ أَنَّ أَقْوَامًا اخْتَلَفُوْا فِي الْأَذَانِ اور بیان کیا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے اذان دینے سے متعلق آپس میں اختلاف کیا تو ان کے درمیان فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ سَعْدٌ۔حضرت سعد نے قرعہ ڈالا ٦١٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۱۵: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ سُمَةٍ مَّوْلَى أَبِي مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سمی ہے، جو کہ بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام تھے۔سمی نے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ ابو صالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے