صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 321 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 321

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۱ ١١ - كتاب الجمعة يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ کلمہ شہادت پڑھا۔آپ کو میں نے یہ کہتے سنا: اما بعد ( محمد بن ولید ) زبیدی نے بھی زہری سے (شعیب الزُّهْرِيِّ۔کی طرح ) روایت کی ہے۔اطرافه ۳۱۱۰، ۳۷۱۴، ۳۷۲۹، ۳۷۶۷، ۵۲۳۰، ۵۲۷۸ ۹۲۷: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ :۹۲ اسماعیل بن ابان نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيْلِ قَالَ حَدَّثَنَا (عبدالرحمن ) ابن الغسیل (بن سلیمان ) نے ہم سے عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ بیان کیا۔انہوں نے کہا: عکرمہ نے ہمیں بتایا۔عَنْهُمَا قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ الْمِنْبَرَ وَكَانَ آخِرَ مَجْلِسِ جَلَسَهُ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور یہ مُتَعَطِفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكَبَيْهِ قَدْ آپ کا آخری بیٹھنا تھا جو آپ ( منبر پر ) آپ نے مونڈھوں پر ایک چادر لپیٹی ہوئی تھی اور اپنا عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ فَحَمِدَ سر ایک سیاہ پٹی سے باندھا ہوا تھا۔آپ نے اللہ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَيَّ تعالى کی حمد وثنا بیان کی۔پھر فرمایا: لوگو! میرے قریب فَتَابُوْا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ هَذَا آ جاؤ۔تو لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے۔پھر آپ الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يَقِلُوْنَ وَيَكْثُرُ نے فرمایا: اما بعد یہ انصار کا قبیلہ کم ہوتا جائے گا النَّاسُ فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ اور دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے۔پس جو شخص صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيْهِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں امارت کا والی ہو اور أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيْهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ اس وجہ سے اسے طاقت ہو کہ وہ کسی کو نقصان اور نفع مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُّسِيْئِهِمْ۔پہنچا سکے تو چاہیے کہ وہ ان میں سے نیک کی نیکی کو قبول کرے اور ان کی ناگوار بات سے درگذر کرے۔اطرافه: ٣٦٢٨، ٣٨٠٠ تشریح: مَنْ قَالَ فِى الْخُطْبَةِ بَعْدَ الثَّنَاءِ اَمَّا بَعْدُ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسُولٌ اور مُطَاع فرما کر آپ کی نسبت یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ آپ وہ رسول ہیں جن کی اطاعت کی جائے (التکویر (۲۲) اور صحابہ کرام نے اطاعت شعاری میں عاشق و معشوق کا سا قابل رشک نمونہ دکھایا ہے کہ لامحالہ اقرار کرنا