صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 322
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۲ ١١ - كتاب الجمعة پڑتا ہے کہ جس عظمت کے ساتھ یہ پیشگوئی آپ کے حق میں پوری ہوئی وہ بے مثل ہے۔کہنے سننے میں تو اما بعد تمہیدی الفاظ ہیں، جو مضمون شروع کرنے سے پہلے توجہ کھینچنے کے لئے بولے گئے۔مگر پس پردہ حقیقت وہ روح عشق و محبت ہے جس نے صحابہ کو آپ کا پروانہ بنایا ہوا تھا۔باب ۲۶، ۲۷، ۲۸ کی تشریح میں گذر چکا ہے کہ فلاں بات کی جائے یا نہ کی جائے اور فلاں بات سنت ہے یا واجب؟ دراصل اس قسم کے افعال ضرورت کے تحت کئے گئے اور ان کی ضرورت اب بھی قائم ہے۔علاوہ ازیں روح اطاعت و محبت کا تقاضا ہے کہ ہم رسول مطاع علیہ الصلوۃ والسلام کے رنگ میں رنگین ہوں تا مقصود حقیقی ہمیں حاصل ہو۔اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران :۳۲) { تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔} الله امام بخاری نے عنوان باب مسن سے قائم کر کے اس کا جواب ہر شخص کے ذوق پر چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ یہ ایسی باتیں ہیں جو حد و دفتویٰ سے بالا ہیں، بہ نسبت فقہی مسائل کے جذبات نفس کے ساتھ ان کا زیادہ تعلق ہے۔صلى الله عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النبي علم : عنوان باب میں حضرت ابن عباس کا جو حوالہ بروایت عکرمہ دیا گیا ہے وہ اس باب کی روایت نمبر ۹۲۷ میں مذکور ہے۔آخری لمحات عمر میں آپ نے انصار کا اسی لئے خاص طور پر خیال ملحوظ رکھا کہ انہوں نے آپ کی اطاعت میں اپنی محبت و جانفشانی کے اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے دکھلائے تھے اور اس وجہ سے انہیں یہ ممتاز حیثیت حاصل ہوئی کہ آپ نے ان کے حق میں سفارش فرمائی کہ ان میں سے کمزوروں کی چشم پوشی کی جائے کیونکہ ان کی نیکیاں زیادہ اور نمایاں تھیں۔سنت اللہ بھی یہی ہے۔فرماتا ہے: إِنَّ الْحَسَنتِ يَذْهِبْنَ السَّيِّئَتِ (ہود: ۱۱۵) نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔باب مذکور میں چھ روایتیں مستقل ہیں۔ان سب میں آئما بَعْدُ سے خطبہ جمعہ یا کوئی اور گفتگو شروع کرنے کا ذکر ہے۔اس چھوٹے سے مسئلے کے بارے میں جتنی مستند روایتیں امام بخاری کو مل سکی ہیں وہ یہاں جمع کر دی گئی ہیں۔اس سے امام موصوف کی اپنی محبانہ معنویات کا بھی پتہ چلتا ہے۔امام موصوف کا یہ اہتمام ہمارے لئے سبق آموز ہے۔جب کچی محبت ہوتی ہے۔تو اس کا اظہار بھی کسی نہ کسی رنگ میں ہو جاتا ہے۔ان کے اس اہتمام کا تعلق باب ۲۷، ۲۸ سے بھی ہے۔جن فقہاء کے اختلاف کا ذکر گذر چکا ہے کہ افعال میں سے کون سا فعل واجب ہے اور کون سا نہیں۔اس تعلق میں باب ۲۵ و باب ۲۶ کی تشریح دیکھئے۔روایت نمبر ۹۲۲ زیر باب ۲۹، کتاب العلم روایت نمبر ۸۶ اور کتاب الوضوء روایت نمبر ۱۸۴ میں گذر چکی ہے اور کتاب الکسوف باب اروایت نمبر ۱۰۵۳ میں بھی آئے گی۔جہاں اس کی مزید تشریح دیکھی جائے۔وَلَغَطَ نِسْوَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَانْكَفَأْتُ إِلَيْهِنَّ لِأُسَكِّتَهُنَّ : یعنی انصار کی عورتوں نے شور وغل شروع کر دیا۔تو میں ان کی طرف لپکی کہ انہیں خاموش کروں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں نوافل میں بھی شریک جماعت ہوا کرتی تھیں۔باب ۱۳ روایت نمبر ۸۹۹ کی تشریح میں حضرت اسماٹو کے انہی الفاظ کی بناء پر روایت نمبر ۹۲۲ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ عورتیں دن کو بھی نماز میں شریک ہوا کرتی تھیں۔رات کی نمازوں تک ہی ان کی شمولیت محدود نہ تھی۔