صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 318
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۱۸ ١١ - كتاب الجمعة فَأَوْعَيْتُهُ غَيْرَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ مَا يُغَلَّظُ نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا، میں نے بھی کہہ دیا۔ہشام کہتے عَلَيْهِ۔تھے: فاطمہ نے جو کچھ مجھ سے کہا، میں نے اسے یاد رکھا ہے۔مگر انہوں نے کچھ ذکر کیا تھا کہ اس منافق پر سختی کی جائے گی ( وہ مجھے یاد نہیں رہا)۔أطرافه: ٨٦ ١٨٤، 1053، ۱۰54، ۱۰٦۱، ۱۲۳۵، ۱۳۷۳، ۲۰۱۹، ۲۵۲۰، ۷۲۸۷ ٩٢٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ قَالَ :۹۲۳ محمد بن معمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ جَرِيْرِ بْنِ حَازِمٍ ابو عاصم نے جریر بن حازم سے روایت کی انہوں نے قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُوْلُ حَدَّثَنَا کہا: میں نے حسن (بصری) سے سنا۔وہ کہتے تھے: ہم عَمْرُو بْنُ تَعْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی سے حضرت عمر و بنت تغلب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال یا کوئی چیز لے لائی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ سَبْيِ} گئی۔آپ نے وہ بانٹ دی۔آپ نے بعض فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالاً آدمیوں کو دیا اور بعض کو نہ دیا۔پھر آپ کو یہ خبر پہنچی کہ فَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِيْنَ تَرَكَ عَتَبُوا فَحَمِدَ اللهَ جن لوگوں کو آپ نے چھوڑ دیا تھا۔وہ کچھ ناراض ثُمَّ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ إِنِّي ہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس کی لَأُعْطِي الرَّجُلَ {وَأَدَعُ الرَّجُلَ } تعریف کی۔پھر فرمایا: اما بعد اللہ کی قسم! میں ایک وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي شخص کو دیتا ہوں ( اور ایک شخص کو چھوڑ دیتا ہوں تقم اور حالانکہ جسے چھوڑتا ہوں۔وہ مجھ کو زیادہ پیارا ہوتا أُعْطِي وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَى ہے بہ نسبت اس کے جسے میں دیتا ہوں۔لیکن میں ) فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ بعض لوگوں کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ بے چینی اور بے صبری دیکھتا ہوں اور بعض لوگوں کو الْغِنَى وَالْخَيْرِ فِيْهِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ اس سیر چشمی اور بھلائی کے حوالہ کر دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ”سبي“ کی بجائے ”بشَيْء“ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۵۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔الفاظ "وَادَعُ الرَّجُل فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۵۱۸)