صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 317
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۱۷ ۱۱ - كتاب الجمعة عَلَى رَأْسِي فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سورج ظاہر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ ہو چکا تھا ۔ آپ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور آپ نے الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَحَمِدَ الله اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جس کا کہ وہ اہل ہے۔ پھر آپ بمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ قَالَتْ نے فرمایا: امابعد کہتی تھیں اور انصار کی چند عورتوں نے وَلَغَطَ نِسْوَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ فَانْكَفَأْتُ شور وغل شروع کر دیا۔ میں ان کی طرف لپکی تا کہ میں انہیں خاموش کروں ۔ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا إِلَيْهِنَّ لِأُسَكِتَهُنَّ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ کہ آپ نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے قَالَتْ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ فرمایا ہے کوئی بھی ایسی چز ہیں جو مجھکو پہلے نہیں دکھائی إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى گئی تھی۔ مگر میں نے اسے اپنی اس جگہ میں دیکھ لیا ہے۔ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ یہاں تک کہ جنت و نار بھی اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم تُفْتَنُوْنَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيْبَ مِنْ قبروں میں مسیح دجال کی آزمائش کی طرح یا اس کے فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ قریب قریب آزمائے جاؤ گے۔ تم میں سے ایک کے فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا پاس فرشتہ آئے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص الْمُؤْمِنُ أَوْ قَالَ الْمُوْقِنُ شَكٍّ هِشَامٌ کی نسبت تمہیں کیا علم ہے؟ جو ماننے والا یا فرمایا یقین فَيَقُوْلُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّی کرنے والا ہے۔ ہشام نے شک کیا ( کہ ان دونوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ میں سے کونسا لفظ تھا ) تو وہ کہے گا: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وَالْهُدَى فَآمَنَا وَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا وَصَدَّقْنَا وہ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنْ اور ہدایت کی باتیں لائے۔ ہم نے مان لیا اور قبول کیا اور كُنتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ قَالَ ہم نے فرمانبرداری کی اور ہم نے سچا جانا۔ تو اس سے کہا جائے گا: آرام سے سوجا۔ ہم تو جانتے ہی تھے کہ تو ان کو الْمُرْتَابُ شَكٍّ هِشَامٌ فَيُقَالُ لَهُ مَا ماننے والا ہے اور جو منافق ہوگا یا فرما یا شک کرنے والا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي ہوگا ہشام نے شک کیا ( کہ ان دونوں لفظوں میں سے سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُوْنَ شَيْئًا فَقُلْتُ ون سالفظ تھا تو اس سے پوچھا جائے گا۔ اس شخص کے قَالَ هِشَامٌ فَلَقَدْ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ متعلق تمہیں کیا علم ہے؟ وہ کہے گا: میں نہیں جانتا۔ میں