صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 314
۱۱ - كتاب الجمعة صحيح البخاری جلد ۲ یہاں اور۔اس میں الفاظ: إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُوا بى اور الفاظ لِتَعَلَّمُوا صَلوتِی نہیں ہیں۔امام بخاری کا اس سند کی روایت سے یہاں نیا استدلال کرنا ان کے حسن انتخاب و تصرف پر دلالت کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام افعال ہمارے لئے قابل اقتداء ہیں۔پس آپ کا اذان کے وقت منبر پر بیٹھنا اور اس پر کھڑے ہو کر وعظ ونصیحت کرنا بھی سنت نبویہ ہے۔جن کی اتباع بمقتضا کے آیت إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران:۳۲) تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔} ضروری ہے۔روایت نمبر ۳۷۷ میں طُرْفَاءُ الْغَابَةِ کی جگہ اَتْلُ الْغَابَةِ ہے۔دونوں لفظوں کے معنی جھاؤ کے ہیں۔اس تعلق میں کتاب الصلاۃ باب ۶۴ کی تشریح بھی دیکھئے۔روایت نمبر ۹۱۷، ۹۱۸ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت حقہ کے تحت منبر بنوایا تھا۔اس سے پہلے آپ ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر تقریر فرمایا کرتے تھے۔امام اور لوگوں کے لئے وہی ضرورت اب بھی قائم ہے کہ تمام لوگ امام کو دیکھ سکیں اور وہ بھی ان کو رو بر مخاطب کرتے ہوئے تلقین کر سکے، جیسا کہ آپ نے منبر پر کھڑے ہوئے لوگوں کو مخاطب کیا اور فرمایا: مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلُ ( روایت نمبر ۹۱۹) جو جمعہ میں آئے اسے نہانا چاہیے۔مندرجہ حوالوں سے فقہائے کوفہ کی رائے رد کرنا مقصود ہے کہ منبر پر کھڑا ہو کر لوگوں سے مخاطب ہونا سنت نبوی نہیں۔روایت نمبر ۹۱۸ کی تشریح کے لئے کتاب البیوع باب ۳۲ روایت نمبر ۲۰۹۵ بھی دیکھئے۔وہاں روایت میں معصوم بچے کی طرح تنے کے رونے کا ذکر ہے اور یہاں گا بھن اونٹنی کے رونے کی مثال دی گئی ہے۔بَاب ۲۷ : الْخُطْبَةُ قَائِمًا خطبہ کھڑے ہو کر دینا وَقَالَ أَنَسَ بَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ يَخطُبُ قَائِمًا۔حضرت انس نے کہا: اسی اثناء میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے (لوگوں سے ) مخاطب تھے۔۹۲۰: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ :۹۲۰ عبد اللہ بن عمر قواریری نے ہم سے بیان کیا، الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ کہا: خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیا۔انہوں الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ عَنْ نے کہا: عبید اللہ بن عمر ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نافع سے، نافع نے حضرت (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَخطُبُ قَائِمًا ثُمَّ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُوْمُ كَمَا تَفْعَلُونَ الْآنَ۔کھڑے ہو کر تقریر فرماتے۔پھر بیٹھ جاتے۔پھر کھڑے ہو جاتے اسی طرح جس طرح تم کرتے ہو۔اطرافه: ۹۲۸