صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 315 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 315

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۱۵ ۱۱ - كتاب الجمعة تشریح : الْخُطْبَةُ قَائِمًا : فقہاء کے درمیان اس امرمیں بھی اختلاف ہواہے کہ کیا منہ پر کھڑے ہوکر خطاب کرنا سنت ہے یا واجب؟ امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ سنت ہے واجب نہیں ۔ مگر امام مالک نے خطبہ ؟ خطبه جمعه کے لئے قیام کو واجب قرار دیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۱۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو عادت تھی، روایت نمبر ۹۲۰ سے الله واضح ہے۔ امام مسلم نے بھی حضرت جابر بن سمرہ کی روایت نقل کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ (مسلم ، كتاب الجمعة - باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة) (ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ۔ پھر بیٹھ جاتے ۔ پھر کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ۔ اگر کوئی تمہیں کہے کہ آپ بیٹھ کر خطاب فرماتے تھے تو اس نے غلط کہا ہے ۔ ) آپ کا بیٹھ کر پھر اٹھنا اور دوباره خطبہ شروع کرنا بتاتا ہے کہ آپ کھڑے ہو کر خطاب کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ ورنہ بیٹھ کر ہی تقریر فرماتے ۔ جن لوگوں نے حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے جو اگلے باب میں آتی ہے بیٹھ کر خطاب کرنے کے جواز کا استدلال کیا ہے انہوں نے غلطی کھائی ہے۔ وہ خطبہ جمعہ کا موقع نہ تھا بلکہ عام گفتگو تھی ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۱۶) وَقَالَ أَنَسٌ ۔۔۔۔ عنوان باب میں حضرت انس کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ کتاب الاستسقاء باب ۶ روایت نمبر ۱۰۱۳ میں دیکھئے۔ بَاب ۲۸ : يَسْتَقْبِلُ الْإِمَامُ الْقَوْمَ وَاسْتِقْبَالِ النَّاسِ الْإِمَامَ إِذَا خَطَبَ امام کا لوگوں کی طرف منہ کرنا اور لوگوں کا امام کی طرف منہ کرنا جب وہ (ان سے ) مخاطب ہو وَاسْتَقْبَلَ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَسٌ رَضِيَ الله اور حضرت ابن عمر اور حضرت انس رضی اللہ عنہم نے عَنْهُمُ الْإِمَامَ ۔ امام کی طرف منہ کیا۔ ۹۲۱: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ ۹۲۱ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کیا، کہا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بھی ( بن کثیر ) سے، مَيْمُونَةَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا كي نے ہلال بن ابی میمونہ سے روایت کی ۔ ( انہوں سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ جَلَسَ نے کہا :) عطاء بن بیسار نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا۔ انہوں نے ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمُنَبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ۔ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر بیٹھے اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھے۔ اطرافه ١٤٦٥، ٢٨٤٢، ٦٤٢٧۔