صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 16
بخاری جلد ۲ ۱۶ ١٠ - كتاب الأذان سے موسوم کی گئی ہے۔اس لئے نہیں کہ اس میں تمام ارکانِ اسلام کا ذکر ہے۔جیسا کہ بعض نے اس طرف اشارہ کر کے بے تعلق بحشیں چھیڑ دی ہیں۔کیونکہ اسلام کی بناء تو پانچ ارکان پر ہے۔جن میں سے تین کا ذکر اذان میں قطعا نہیں۔ایسا ہی ارکان ایمان میں ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتب، ایمان بالرسل اور ایمان بالآخرت بھی ہے۔مگر اذان میں ان میں سے کسی کا ذکر نہیں، تو کیا اذان اس وجہ سے دعوت ناقصہ کہلائے گی؟ ہر گز نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان والی دعوت اگر چہ من حیث الا جمال اپنی ذات میں کامل ہے۔لیکن بلحاظ تفصیل اور نشر و اشاعت و غلبہ کے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی اسی طرح محتاج ہے جس طرح ایک پیج۔رَبّ کے معنی وہ ذات جو اونی حالت سے تدریجا ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچا دے۔اس لئے اُمتِ اسلامیہ کے ہر فرد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اذان سن کر اَللّهُمَّ رَبَّ هذه الدَّعْوَةِ التّامَّةِ۔کے الفاظ سے صفتِ ربوبیت سے مخاطب ہو اور اس پیغام حق کی کامل ترقی کے لئے دعا کرے، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تمام تو میں وحدت کی لڑی میں منسلک ہو کر اپنی وہ نماز قائم کریں، جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔الْقَائِمَةِ کے معنی ہیں و صحیح،، جس میں کوئی نقص نہ ہو۔اتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثُهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔۔۔۔۔الْوَسِيلَة سے اگر چہ ہر قسم کے اسباب مراد ہو سکتے ہیں جو دعوت تامہ اور صلوٰۃ قائمہ کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں۔لیکن چونکہ الوسيلة کا ال تعیین تخصیص کے لئے بھی ہوتا ہے۔اس لئے یہاں آلوسيلة سے مراد وہ مسیح موعود ہے جس کی بعثت کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعدہ دیا گیا ہے اور جس کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے آپ کی دعوت کو تمام ادیان پر برتری حاصل ہوگی اور دنیا کی تمام قو میں اقرار کریں گی کہ مقام محمود پر کھڑا ہونے کا حق صرف ایک ہی انسان کو ہے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔(فَدَتْهُ نَفْسِى ( الْفَضِيلَة کا لفظ اُسی موعودہ برتری کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بایں الفاظ وارد ہوا ہے: هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ) (الصف:۱۰) { وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اُسے دین (کے ہر شعبہ) پر کلیۂ غالب کر دے، خواہ مشرک پُر امنا ئیں۔اور مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ غلبہ اور برتری کی یہ پیشگوئی مسیح موعود کے ذریعے سے پوری ہوگی۔(دیکھے تفسیر طبری- تحت ہذہ الآیة ) ( نیز دیکھئے: تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۳۲) پس الْفَضِيلَة اور مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِى وَعَدْتَهُ کے دو قرینے پوری وضاحت کے ساتھ الوَسِيلَة کے مفہوم کی تعیین کرتے ہیں کہ اس سے مراد کون سا وسیلہ ہے جس کے ذریعے سے آپ کی دعوت پایہ تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔قرآنِ مجید میں جہاں اللہ تعالیٰ نے عَسَى أَنْ يُبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ) (بنی اسرائیل: ۸۰) کہہ کر مقام محمود پر آپ کو فائز کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔وہاں اس کے ساتھ ہی یہ دعا بھی مانگنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے: وَاجْعَلُ لِى مِنْ لَّدُنكَ سُلْطَنَا نَصِيرًا (بنی اسرائیل: ۸۱) میرے لئے اپنے حضور سے ایک ایسا سلطان مبعوث کر جو ہر معنی میں پورا