صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 304 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 304

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۴ ۱۱ - كتاب الجمعة وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله کہا: زہری نے ( ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید اور عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوسلمہ سے ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ {ح} وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو روایت کی اور ابوالیمان نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ شعیب نے ہمیں بتایا زہری سے مروی ہے کہ انہوں قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا ابو ہریرہ نے کہا: میں نے رسول الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تَأْتُوْهَا تَسْعَوْنَ وَأَتُوهَا تَمْشُونَ سے سنا آپ فرماتے تھے: جب تکبیرا قامت ہو تو نماز عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْا کے لئے دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ معمول کی رفتار سے وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ۔ چل کر آؤ اور تم سکون کو اپنا وطیرہ بناؤ۔ جتنی نماز تم پالو پڑھ لو جو تم سے رہ جائے اسے پورا کر لو۔ اطرافه: ٦٣٦- ۹۰۹: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ قَالَ ۹۰۹ عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ابوقتیہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: علی بن الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن ابی کثیر عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ سے کی نے نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، ( انہوں نے أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا تَقُوْمُوا حَتَّى کہا: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے اپنے باپ تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ۔ اطرافه: ٦٣٧، ٦٣٨ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ہے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب پ نے فرمایا: جب تک مجھے ( اٹھتے ) نہ دیکھو نہ اٹھا کرو اور تمہیں چاہیے کہ آرام ۔ سے اٹھو۔ تشریح : الْمَشْى إِلَى الْجُمُعَةِ : كتاب الاذان باب ۲۳ باب ۱۳ کی روایتوں میں ہیصلی الہ علیہ سلم کا en ارشاد گذر چکا ہے کہ نماز کے لئے اطمینان سے آنا چاہیے۔ پس فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ کا مفہوم یہ ہیں کہ دوڑتے ہوئے آؤ یا تیز قدم آؤ جیسا کہ بعض کا خیال ہے۔ امام بخاری نے سعی کے معنے عملی جدو جہد کے کئے ہیں اور اس کے لئے