صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 304
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۴ ١١ - كتاب الجمعة وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ کہا: زہری نے ( ہمیں ) بتایا۔انہوں نے سعید اور عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو سلمہ سے ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو روایت کی اور ابوالیمان نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ شعیب نے ہمیں بتا یا زہری سے مروی ہے کہ انہوں قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تَأْتُوْهَا تَسْعَوْنَ وَأَتُوْهَا تَمْشُونَ سے سنا آپ فرماتے تھے: جب تکبیرا قامت ہو تو نماز عَلَيْكُمُ السَّكِيْنَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْا کے لئے دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ معمول کی رفتار سے چل کر آؤ اور تم سکون کو اپنا وطیرہ بناؤ۔جتنی نماز تم پالو وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوْا۔اطرافه: ٦٣٦۔پڑھ لو جو تم سے رہ جائے اسے پورا کرلو۔۹۰۹: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ قَالَ :۹۰۹ عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ابوقیہ نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: علی بن الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْن أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مبارک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن ابی کثیر عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي قَتَادَةَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ سے کسی نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، ( انہوں نے أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا تَقُوْمُوا حَتَّى کہا: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تک مجھے ( اٹھتے ) نہ دیکھو نہ اٹھا کرو اور تمہیں چاہیے کہ آرام سے اٹھو۔تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ۔اطرافه: ٦٣٧ ٦٣٨ تشريح : الْمَشْيُ إِلَى الْجُمُعَةِ: كتاب الاذان باب ۲۱ و باب ۲۳ کی روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گذر چکا ہے کہ نماز کے لئے اطمینان سے آنا چاہیے۔پس فاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللہ کا مفہوم یہ نہیں کہ دوڑتے ہوئے آدیا تیز قدم آؤ جیسا کہ بعض کا خیال ہے۔امام بخاری نے سختی کے معنے عملی جد و جہد کے کئے ہیں اور اس کے لئے