صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 303
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۳ ۱۱ - كتاب الجمعة باب ۱۸ : الْمَشْيُ إِلَى الْجُمُعَةِ جمعہ کی نماز کے لئے چل کر آنا وَقَوْلُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ : فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اور الله عز وجل کا فرمانا فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ اور الله (الجمعة: ١٠) وَمَنْ قَالَ السَّعْيُ الْعَمَلُ جس نے کہا: سعی کے معنے عمل کرنا اور جانا ہیں وَالذَّهَابُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَسَعَى لَهَا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا اور اس سعيها (بنی اسرائیل: ۲۰) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ کے لئے سعی کی ایسی سعی جو اس کا حق ہے اور حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَحْرُمُ الْبَيْعُ حِينَئِذٍ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جمعہ کے وقت خرید و وَقَالَ عَطَاءٌ تَحْرُمُ الصِّنَاعَاتُ كُلُّهَا فروخت حرام ہے اور عطاء ( بن ابی رباح ) نے کہا: 3۔ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ اس وقت تمام کام حرام ہوتے ہیں اور ابراہیم بن سعد إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ نے کہا: زہری سے مروی ہے کہ جب مؤذن جمعہ کے مُسَافِرٌ فَعَلَيْهِ أَنْ يَشْهَدَ۔ روز اذان دے اور وہ سفر میں جا رہا ہو تو اسے چاہیے کہ جمعہ میں آئے۔ ۹۰۷ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ :۹۰۷ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بن مسلم نے ہم سے بیان کیا ، انہوں نے کہا: یزید بن بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَايَةُ ابی مریم نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ عبایہ بن بْنُ رِفَاعَةَ قَالَ أَدْرَكَنِي أَبُو عَبْسٍ رفاعہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں جمعہ کو جا رہا تھا کہ وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَى الْجُمُعَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ مجھے حضرت ابو عبس ( عبدالرحمن بن جبر رضی اللہ عنہ ) النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي آملے اور انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں سَبِيْلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ۔ گرد آلود ہوں اس کو اللہ نے آگ پر حرام کر دیا ہے۔ اطرافه: ۲۸۱۱۔ ۹۰۸ : حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۹۰۸ آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا : ( عبدالرحمن ) أَبِي ذِنْبِ قَالَ الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ بن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا۔ ابن ابی ذئب نے