صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 305 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 305

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۵ ۱۱ - كتاب الجمعة مفہوم محولہ بالا آیت کا حوالہ دیا ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا (بنی اسرائیل:۲۰) یعنی جس نے آخرت کے لئے ایسی کوشش کی جیسا کہ اس کے لئے ہونی چاہیے۔ پس ان کے استدلال کے مطابق فَاسْعَوْا کا دوڑ نا نہیں بلکہ کوشش ہے۔ حضرت ابن عباس ، عطار" اور ابراہیم نخعی کے فتوے نقل کرنے سے امام موصوف کا اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جمعہ کی اذان سننے پر دنیا کے کاروبار حرام ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ اس وقت سفر کرنا بھی جائز نہیں۔ مسلمان کا فرض ہے کہ پورے اہتمام اور کوشش کے ساتھ ذکر الہی کے لئے حاضر ہو جائے یہ مقصود ہے ۔ فَاسْعَوْا إلَى ذِكْرِ اللہ کے ارشاد سے (مذکورہ بالافتوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۰۳٬۵۰۲) (عمدۃ القاری: جزء ۶ صفحه ۲۰۳ تا ۲۰۴) جمہور کا ان پر اتفاق ہے۔ السَّعْدُ الْعَمَلُ وَالذَّهَابُ : امام موصوف کی تشریح کے مطابق لفظ سعتی میں ہر متعلقہ عمل شامل ہے حتی کہ چلنا بھی اور اس چلنے کی نوعیت، کیفیت اور اہتمام بھی۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے اس آیت کے معانی میں لفظ فَاسْعَوْا سے چلنا مراد لیا ہے۔ (مؤطا امام مالک کتاب النداء للصلاة باب ما جاء في السعي يوم الجمعة) اور امام مالك نے سعی کے معانی عمل بھی بتائے ہیں ۔ (مؤطا امام مالك كتاب النداء للصلاة باب ما جاء في السعي يوم الجمعة) تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۰۲ ۔ روایات نمبر ۹۰۷، ۹۰۸، ۹۰۹ سے واضح ہے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے قدموں کی بھی نگہداشت رکھے اور اس کے فرستادہ کی ہدایت کے مطابق چلے تو وہ یقیناً آگ سے نجات پائے گا۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ ظاہر ہے کہ جلد بازی میں اور افراتفری سے چلنے یا کوئی اور کام کرنے میں جسمانی اور ذہنی قوت ضرورت سے زیادہ صرف ہوتی ہے۔ اس کی کمیت و کیفیت پر فزیالوجی (Physiology) اور سائیکالوجی (Psychology) یعنی علم الاعضاء اور علم النفس نے اچھی طرح روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ کسی طرح جسم کے ذرات جلتے اور ان میں انحلال واضمحلال واقع ہو کر نفسی کیفیات پر اثر انداز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہونے والے قدم ہر قسم کی آگ سے محفوظ رہتے ہیں۔ سکون واطمینان اور وقار و اعتدال ان کے شامل حال ہوتا ہے۔ خواہ وہ قدم جنگ کی گھمسان میں اٹھ رہے ہوں۔ جلد بازی اور اوچھا پن ایسے لوگوں میں نہیں ہوتا اور حالت اعتدال ان کے تمام کاموں میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ احکام الہی کی بجا آوری کا احساس نہیں رکھتے ، ان کی حرکات وسکنات میں سستی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی منافقوں کے متعلق فرماتا ہے: وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كُسَالَى (النساء: ۱۴۳) یعنی جب وہ نماز کی طرف جانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا نفس امارہ احکام الہی کو معمولی معمولی عذروں سے ٹال دینے کا عادی ہوتا ہے۔