صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 15 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 15

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵ ١٠ - كتاب الأذان غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ندائے حَيَّ عَلَی الصَّلوٰۃ آپ کی دعوت کے عملی پہلو کا اعلان کرتے ہوئے تمام بنی نوع انسان کو رات دن اس کامل عبودیت کی طرف بلا رہی ہے، جس میں انسانی کمالات کا راز پنہاں ہے۔(دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی - چوتھا سوال - روحانی خزائن جلده اصفحه ۲ ۴۲ تا ۴۳۰) حی کے معنی آؤ، بڑھو اور لپکو۔علی الصلوۃ اس نماز کی طرف جس کی کامل تشریح قرآن مجید میں کی گئی ہے۔حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کی نداء میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کے عملی نتائج کی طرف توجہ دلائی ہے۔الفلاح کے معنی مکمل کامیابی۔ال استغراق کا ہے، جو ہر قسم کی دینی و دنیاوی کامیابی پر دلالت کرتا ہے۔اسلام سے پہلے مذاہب عالم کی دعوت کا سارا انحصار نجات پر تھا۔یعنی غموں اور دکھوں سے رہائی پانا۔قرآنِ مجید نے بھی لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ٦٣) ( یعنی ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ ہم کریں گے۔} کہہ کر اس کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ الفلاح کا ابتدائی مرحلہ ہے اور اسے فوڈ کے نام سے موسوم کیا ہے۔یعنی دنیاوی اور روحانی نعمتوں کا وارث ہو جاتا ہے۔کیونکہ گناہ یا دکھ درد سے صرف رہائی گواچھی بات ہے مگر یہ منتہائے مقصود نہیں۔قرآنِ مجید نے جہاں نجات کا ذکر فرمایا ہے ؟ وہاں ایک خصوصیت بیان کر کے اسلامی نجات کو دوسرے مذاہب کی نجات موہومہ پر ایک خاص امتیاز بخشا ہے۔فرماتا ہے: إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ٥ حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ٥ ) سورة النباء : ۳۲-۳۳) { یقیناً متقیوں کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ( مقدر) ہے۔باغات ہیں اور انگوروں کی بیلیں۔یعنی ان نجات یافتوں کو قرآن مجید کے ذریعے سے وہ نجات ملے گی جو مثبت رنگ میں ہوگی۔دنیا کی ہر قسم کی نعمتوں کے بھی وارث ہوں گے۔جس کے ساتھ کوئی لغو بات نہ ہوگی۔نجات کا یہ درجہ اسلامی تعلیم کی رو سے ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے اوپر فلاح کا مقام ہے، جو انسان کو روحانی نعمتوں کا وارث ٹھہراتا ہے اور یہاں پہنچ کر انسان تجلیات الہیہ کا مظہر بن جاتا ہے۔اسلامی نماز کا لازمی نتیجہ یہی فلاح ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلوتِهِمُ خَاشِعُونَ۔۔۔۔( سورة المؤمنون: ۲ تا۱۲) 0 یقینا مومن کا میاب ہو گئے۔وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔مفصل تشریح کے لئے دیکھئے:۔براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ "روحانی مراتب سنہ" - روحانی خزائن جلد ۲۱ - صفحه ۱۸۶ تا ۲۴۳) غرض حَيَّ عَلى الفلاح کے کلمات میں اسلام کے عملی نتائج کی طرف توجہ دلا کر لوگوں کو دعوت دی گئی ہے اور اس کے بعد پھر اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلهَ إِلَّا الله کا اعادہ کیا گیا ہے جو انسان کا نصب العین اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم کی دعوت کا لب لباب ہے۔اس اجمال سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا دعا میں اذان کے لئے دعوتِ تامہ کے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے ہیں۔کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله سے متعلق شہادت دینا ہر مسلمان کا فرض قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرۃ : ۱۴۴) { اور اسی طرح ہم نے تمہیں وسطی اُمت بنا دیا، تا کہ تم لوگوں پر نگران ہو جاؤ اور رسول تم پر نگران ہو جائے } اس شہادت کا جو اصل موضوع ہے، وہ چونکہ کلمات اذان میں بوجہ اتم بیان کیا گیا ہے۔اس لئے اذان دعوت نامہ کے نام