صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 300 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 300

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۰ ۱۱ - كتاب الجمعة ۹۰۳: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۹۰۳ عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالله عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّهُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: یحی بن سعید نے ہم کو سے جمعہ سَأَلَ عَمْرَةَ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بتایا کہ انہوں نے عمرة ( بنت عبدالہ الرحمن ) فَقَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا کے روز نہانے کی بابت پوچھا : تو انہوں نے کہا: كَانَ النَّاسُ مَهَنَةَ أَنْفُسِهِمْ وَكَانُوا إِذَا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : لوگ اپنے کام رَاحُوا إِلَى الْجُمُعَةِ رَاحَوْا فِي هَيْئَتِهِمْ كَاج آپ کیا کرتے تھے اور جب جمعہ کے لئے فَقِيلَ لَهُمْ لَوِ اغْتَسَلْتُمْ۔ اطرافه: ۲۰۷۱۔ جاتے تو وہ اپنی اس ہیئت میں جاتے اور ان سے کہا گیا: (اچھا ہو) اگر تم نہا لیا کرو۔ ٩٠٤ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ :۹۰۴ سریج بن نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ فلح بن سلیمان نے بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عثمان بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِي عَنْ أَنَسِ عبد الرحمن بن عثمان تیمی سے، عثمان نے حضرت انس بْنِ مَالِكَ هُ أَنَّ النَّبِيَّ كَانَ يُصَلِّي بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جمعہ الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ۔ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ ٩٠٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ۹۰۵ عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالله عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: حمید قَالَ كُنَّا نُبَكِّرُ بِالْجُمُعَةِ وَ نَقِيلُ نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک) سے بَعْدَ الْجُمُعَةِ۔ اطرافه: ٩٤٠۔ مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم جمعہ اول وقت پڑھتے اور جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے۔ تشريح : وَقْتُ الْجُمُعَةِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ : : امام احمد بن حنبل کی رائے میں زوال سے پہلے بھی جمعہ پڑھنا جائز ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک جمعہ چونکہ ظہر کا قائم مقام ہے، اس لئے زوال کے بعد ہی اس کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ یہی مذہب امام بخاری کا بھی ہے اور اس کی تائید میں انہوں نے عنوان باب میں بعض صحابہ کے درآمد کا حوالہ دیا ہے ۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ مذکورہ بالا صحابہ کرام کا حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ بعض روایتیں عمل درآ۔