صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 299
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۹ ۱۱ - كتاب الجمعة الْغَبَارُ وَالْعَرَقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ الْعَرَقُ ان پر گرد پڑتی۔ پسینہ آجاتا اور ان سے پسینہ کی بو فَأَتَى رَسُولَ اللهِ اللهِ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ آتی ۔ ان میں سے ایک شخص رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم وَهُوَ عِنْدِي فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَوْ کے پاس آیا اور آپ میرے پاس ہی تھے۔ نبی اے أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا۔ نے فرمایا کہ اچھا ہو ) اگر تم اس دن نہا دھو کر صاف ستھرے ہو جایا کرو۔ : تشريح : مِنْ أَيْنَ تُؤْتَى الْجُمُعَةُ وَعَلَى مَنْ تَجِبُ : اس باب سے بھی ایک اختلاف مل کرنا مقصود ہے ا کہ عنوان باب ہی میں عطاء بن ابی رباح کا فتوئی اور حضرت انس بن مالک کے عمل ہے۔ جیسا کہ درآمد کا حوالہ دے کر اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر انسان اتنے فاصلے پر ہو کہ اذان سنائی دے تو اس پر جمعہ واجب ہو جاتا ہے۔ لیکن ارشاد باری تعالیٰ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ میں اذان دیئے جانے کا ذکر ہے۔ سننے یا نہ سننے کا ذکر نہیں۔ اذان کا علم بغیر سننے کے بھی ہو سکتا ہے۔ فقہاء کوفہ کا مذہب تو یہ ہے کہ شہر سے باہر ہو تو جمعہ واجب نہیں ہوتا اور انہوں نے حضرت عائشہ کی روایت نمبر ۹۰۲ سے استدلال کیا ہے، جس میں آتا ہے کہ عوالی کے رہنے والے باری باری مسجد نبوی میں جمعہ کے لئے آیا کرتے تھے۔ اگر جمعہ ہر ایک کے لئے واجب ہوتا تو وہ یہ باریاں مقرر نہ کرتے۔ فتح الباری جزء ثانی صفحہ مگر ۴۹۶) یہ امر ان سے نظر انداز ہو گیا ہے کہ یہ باریاں ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے مقرر کی گئی تھیں۔ کیونکہ عوالی کی بستیاں مختلف فاصلوں پر اسی طرح واقع تھیں جس طرح پہاڑی علاقوں میں موہڑے ہوتے ہیں۔ ان کا مردوں سے خالی رہنا مسلمان عورتوں کے لئے خطرہ کا باعث تھا۔ نزدیک سے نزدیک بستی کا فاصلہ تین چار میل سے کم نہ تھا۔ باشندگان عوالی کا جمعہ کے لئے مدینہ پہنچنا بتاتا ہے کہ وجوب جمعہ کے لئے اذان سننے کی شرط نہیں ۔ حضرت انس کا اپنے گاؤں زاویہ آکر جمعہ پڑھنا اور کبھی بصرہ میں آکر پڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ جمعہ ترک نہ کرتے تھے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۹۶،۴۹۵) امام بخاری نے عنوانِ باب صیغہ استفہام قائم کر کے اپنی رائے ظاہر نہیں کی ۔ ہاں قرآن مجید کی آیت کی طرف اشارہ کر کے تعمیل حکم کے واجب ہونے کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ خواہ جمعہ اسی گاؤں میں ہی پڑھ لے جس کا وہ باشندہ ہے یا اس جگہ آ جائے جہاں جمعہ ہوتا ہے۔ بَاب ١٦ : وَقْتُ الْجُمُعَةِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ جمعہ کا وقت جب سورج ڈھل جائے وَكَذَلِكَ يُرْوَى عَنْ عُمَرَ وَعَلِيّ اور اسی طرح حضرت عمر، حضرت علی، حضرت نعمان وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ بن بشیر اور حضرت عمر و بن حریث رضی اللہ عنہم سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ۔ منقول ہے۔