صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 301
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۱ ۱۱ - كتاب الجمعة ایسی بھی منقول ہیں جن میں ان کے عمل کے خلاف بھی منسوب کیا گیا ہے جو صحیح نہیں بلکہ مستند روایتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ یہ صحابہ بھی نماز جمعہ زوال کے بعد ہی پڑھا کرتے تھے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۹۷) الله علی سنت امام بخاری نے مذکورہ بالا عنوان باب قائم کرنے کے بعد پہلا استدلال روایت نمبر ۹۰۳ سے کیا ہے۔ جس میں لفظ راحوا آتا ہے۔ لفظ رواحٌ کے معنے ہیں زوال کے بعد جانا ۔ دوسری روایت نمبر ۹۰۴) وا نمبر ۹۰۴) واضح ہے اور آنحضرت صل کی۔ مستمرہ پر دلالت کرتی ہے۔ كَانَ يُصَلِّى الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ ۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) جمعہ اُس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ روایت مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَعَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ (روایت نمبر ۹۳۹) یعنی ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ بھی کرتے اور کھانا بھی کھاتے تھے۔ اور روایت كَانُوا يُصَلُّونَ وَيَنْصَرِفُونَ وَمَا لِلْجُدْرَانِ أَظْلَالٌ۔ (بداية المجتهد، كتاب الصلاة، الباب الثالث من الجملة الثالثة، الفصل الثاني في شروط الجمعة) وہ نماز پڑھتے اور واپس ( ایسی حالت میں ) لوٹتے کہ دیواروں کے سایے نہ ہوتے تھے۔ صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ جمعہ جلدی پڑھا جاتا ہے۔ یہی مفہوم واضح کرنے کی غرض سے روایت نمبر ۹۰۵،۹۰۴ لائی گئی ہیں، جن میں زوال کے وقت نماز جمعہ پڑھنے کی صراحت ہے۔ باب ۱۷ : إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے روز اگر سخت گرمی ہو ٩٠٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :۹۰۶ محمد بن ابی بکر المقدمی نے ہم سے بیان کیا، الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ کہا: حرمی بن عمارہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ هُوَ خَالِدٌ کہا: ابو خلده خالد بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا۔ کہتے يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ تھے: بی صلی اللہ علیہ وسلم جب سخت سردی ہوتی تو نماز بَكَرَ بِالصَّلَاةِ وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ سویرے پڑھ لیتے اور اگر سخت گرمی ہوتی تو بِالصَّلَاةِ يَعْنِي الْجُمُعَةَ قَالَ يُونُسُ بْنُ نماز ٹھنڈے وقت پڑھتے یعنی جمعہ کی نماز ۔ یونس بُكَيْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلْدَةَ فَقَالَ بِالصَّلَاةِ بن بکیر نے کہا: ابوخلدہ نے ہمیں بھی بتایا اور انہوں وَلَمْ يَذْكُرِ الْجُمُعَةَ وَقَالَ بِشْرُ بْنُ نے نماز کا تو ذکر کیا مگر جمعہ کا ذکر نہیں کیا اور بشیر بن ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا ثابت نے کہا: ہم سے ابوخلدہ نے بیان کیا۔ انہوں