صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 14 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 14

صحيح البخاري - جلد ۲ ۱۴۴ ١٠ - كتاب الأذان صلى الله صلى الله صلى الله ۔ کے یقین سے کسی بات کا اقرار و اعلان کرنا۔ اسلام کی تعلیم کی رو سے محض اقرار کچھ چیز نہیں بلکہ اقرار در حقیقت وہ ہے جو مشاہدہ کا درجہ رکھتا ہو۔ یہ مشاہدہ تجلیات الہیہ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا ۔ صرف چند ہی الفاظ میں کسی خوبی کے ساتھ دین کے اصل الاصول کا علمی و عملی پہلو واضح کر کے دکھایا گیا ہے۔ دنیا میں سوائے اسلام کے کسی مذہب کو بھی یہ فخر حاصل نہیں کہ اس نے نہایت ضبط اور یقین کے ساتھ ایسے جامع و مانع الفاظ میں اپنے اصل الاصول کو پیش کیا ہو۔ اگر مذاہب نے ایسا کیا ہوتا تو نہ مشرکانہ خیالات کبھی ان کی اصولی تعلیم کو مسخ کرتے اور نہ وہ ایک زمانہ کے بعد انسانوں کو خدا بنا بیٹھتے۔ محمد رسول اللہ سے پہلے تمام دعوتیں اپنی اسی خامی کی وجہ سے ناقص اور ناکام رہیں۔ مگر آپ نے اپنے تبلیغی اعلان میں صرف اسی امر پر ہی بس نہیں کیا کہ اپنے دین کے اصل الاصول کو واضح الفاظ میں پیش فرمایا۔ بلکہ اس کے ساتھ ہی احتیاطا اپنے منصب سے متعلق اس اعلان کی بھی ضرورت بھی کہ الفاظ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ کو بھی بار بار دہرایا جائے۔ (یعنی) میں اقرار کرتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ تا گذشتہ قوموں کی طرح غلطی ۔ سے پیغامبر ہی کو خدا نہ سمجھ لیا جائے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغام پہنچانے والے ہیں اور جس خوبی سے آپ نے پیغام توحید پہنچایا، وہ آپ ہی اپنی مثال ہے ۔ یہ کلمات ۔ ۔ یہ کلمات سنتے ہوئے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ اعلان دعوت نامہ ا ا کہلانے کا مستحق نہیں کلمہ لا إِلهَ إِلَّا اللہ میں نفی و اثبات سے کامل توحید پیش کی گئی ہے اور اس کے ساتھ کلمہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ میں پیغمبر کے درجہ کو واضح کیا گیا ہے تا آپ کے پیغام میں ابہام کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے۔ پس اسلام کی تعلیم کا بنیادی اصل ؛ اذان کے مذکورہ بالا کلمات میں باتم وجوہ موجود ہے اور اس کی تعلیم کا جو عملی حصہ ہے، وہ حَيَّ عَلَی الصلوة کے الفاظ ہیں۔ وہ نماز کیا ہے جس کی طرف پیغمبر اسلام کی نداء تیرہ سو سال سے بندگانِ خدا کو شب و روز بلا رہی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت و پشیمانی اور محبت و شوق کی آگ ہے، جو شہوات نفس کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ جیسا کہ الصلوة کاما خذ و اشتقاق اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ نماز دل کا ایک گداز ہے جس کا اثر بدن کے روئیں روئیں میں سرایت کرتا اور انسان کو خشوع و خضوع اور استغراق ومحویت کے مقام پر پہنچاتا ہے ۔ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ * ( الزمر : ۲۴) (ترجمہ: جس سے ان لوگوں کی جلد میں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں لرزنے لگتی ہیں۔ پھر ان کی جلد یں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہوتے ہوئے ) نرم پڑ جاتے ہیں ۔ سورۃ مائدہ آیت سے میں جو مضمون اٹھایا گیا ہے اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کی محبت کا نہایت شیریں اور مصفی پانی ہے جو نفس کی کدورتوں کو دھو کر انسان کو پاک وصاف کر دیتا ہے۔ نماز انسانی روح کا وہ معراج ہے جس کے ذریعے سے انسان کامل عبودیت میں اپنے تئیں کھوکر اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین : میں رنگین ہو جاتا ہے۔ صِبْغَةَ اللهِ = وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صَبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ (البقرة : ۱۳۹) ترجمہ: اللہ کا رنگ پکڑو۔ اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: کشتی نوح - نماز کیا چیز ہے ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۶۸ تا ۷۲ ) اسلامی اصول کی فلاسفی " تیسرا سوال - روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۱۴ تا ۴۲۲)