صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 13 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 13

حيح البخاري - جلد ۲ ۱۳ بَابِ : الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ اذان کے وقت دعا کرنا ١٠ - كتاب الأذان ٦١٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ :۶۱۴ علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ شعيب بن ابی حمزہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے اللَّهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِيْنَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ جس نے اذان سننے کے وقت یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ جو اس دعوةِ تامہ اور اس قائم ہونے والی نماز کا رب وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ ہے، محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی کامیابی کا ذریعہ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا عطا فرما اور ہر طرح کی برتری عطا فرما اور انہیں مقامِ الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ محمود پر پہنچا، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے تو کے لئے قیامت کے دن میری سفارش اس کے لئے واجب ہوگئی۔الْقِيَامَةِ۔اطرافه : ٤٧١٩۔تشریح: الدُّعَاءُ عِندَ النِدَاءِ : دعائے مذکورہ بالا میں اذان ایک دعوت نامہ قرار دی گئی ہے۔یعنی ایک ایسی دعوت جو اصول دین کے لحاظ سے اپنی ذات میں مکمل ہے۔اللَّهُ أَكْبَرُ اللہ سب سے بڑا ہے۔اس میں اللہ تعالی کی کبریائی کا اعلان ہے۔یہ ایک حقیقت بینہ ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔انسان ایک انسان کے سامنے سر اُٹھا سکتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا یہ تقاضا ہے کہ سب کے سر اُس کے حضور اور اس کی اطاعت میں جھک جائیں۔مذہب کی بنیاد یہی اصل ہے۔اس کے مطابق انسان کا فرض ہے کہ وہ پہلے اپنے تمام باطل معبودوں کا انکار کرے خواہ یہ معبود آسمان کے فرشتے ہوں یا اس کے خود ساختہ زمینی دیوتا اور بت یا اس کے اپنے نفس کا شیطان جو اس کو صراط مستقیم سے ادھر اُدھر نکلنے کی تحریک کرتا ہے۔یہ پہلا اعلان ہے جس سے اسلام اور تمام انبیاء اور اہل اللہ کی ہدایت شروع ہوتی ہے۔جب تک باطل نہ مٹے حق کی جگہ پیدا نہیں ہوسکتی۔کلمہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ (یعنی میں اقرار کرتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں ) میں باطل معبودوں کی نفی ہے اور کلمہ الا اللہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے ساتھ محبت کے تعلقات قائم کرنے کا اقرار ہے۔اللہ تعالیٰ کے معنی وہ ذات جو اپنے کمالات کی وجہ سے محبت و اطاعت کی سزاوار ہے۔شہادت کے معنی علم کی بناء پر دل