صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 276
صحيح البخاری جلد ۲ باب ۲ : فَضْلُ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے دن نہانے کی فضیلت ۱۱ - كتاب الجمعة ( وَهَلْ عَلَى الصَّبِيِّ شُهُودُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ اور کیا بچوں یا عورتوں پر جمعہ کے دن ( نماز میں ) آنا فرض ہے؟ أَوْ عَلَى النِّسَاءِ :۸۷۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۸۷۷: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے تو چاہیے کہ وہ نہالے۔الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ۔اطرافه: ۸۹۴، ۹۱۹ ۸۷۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۸۷۸ عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ کیا، کہا : جویریہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مالک سے، عَنْ مَّالِكِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْن مالک نے زہری سے، زہری نے سالم بن عبد اللہ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ عمر سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَمَا روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن خطبہ هُوَ قَائِمٌ فِى الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ میں کھڑے تھے۔اتنے میں نبی ﷺ کے صحابہ میں دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ مِنْ سے ایک شخص آیا جو اول مہاجرین میں سے تھا؛ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُ حضرت عمرؓ نے ان کو آواز دے کر پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں (ایک کام میں ) عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ قَالَ إِنِّي شغلتُ مشغول ہوگیا تھا اور میں ابھی اپنے گھر والوں کے فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ پاس بھی نہیں گیا۔میں نے اذان سنی تو اور کچھ نہیں التَّأْذِينَ فَلَمْ أَزِدْ أَنْ تَوَضَاتُ فَقَالَ کیا۔صرف وضو ہی کیا ہے ( اور نماز جمعہ میں شامل وَالْوُضُوءُ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُوْلَ ہونے کے لئے آ گیا ہوں۔حضرت عمر ) نے کہا :