صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 275 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 275

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۷۵ ١١ - كتاب الجمعة امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہود نے بھی اپنی جلاوطنی کے ایام میں بابلیوں اور فارسیوں کے درمیان مدت تک بود و باش رکھنے کی وجہ سے ان کے مشرکانہ عقائد ورسوم کو اپنا لیا تھا اور ان مشرک اقوام کے زیر اثر انہوں نے اپنے مذہب کے اصول میں بھی تغییر و تبدل کیا۔تفصیل کے لئے دیکھئے:۔Antiquities of The Jews, by William Brown D۔D جمعہ کے دن کو بھی قدیم یہودیوں کے نزدیک تقدس حاصل تھا۔چنانچہ رومانی احکام اور فیصلہ جات جو مؤرخ یو سیفس نے اپنی مشہور تاریخ میں نقل کئے ہیں۔ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ دونوں دنوں میں اس بات کی قانونا ممانعت تھی کہ کوئی یہودی کسی مقدمہ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کے لئے بلایا جائے (۲:۱۵) جمعہ کا نام ہی عبرانی میں مزیب هَشَّابات رکھا گیا تھا اور سبت کی تیاری چھٹے دن یعنی جمعہ کے روز آٹھویں گھڑی میں تقریبا اڑھائی بجے شروع ہوتی۔جبکہ قربانی کی جاتی اور نویں گھڑی تقریبا ساڑھے تین بجے ختم ہوتی جبکہ سوختنی قربانی چڑھائی جاتی تھی اور اس کے بعد یہودی کام کاج سے فارغ ہو کر نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر شاہ سبت یعنی ہفتہ کا استقبال کرتے۔اس تسمیہ سے ظاہر ہے کہ جمعہ بھی ان کے نزدیک ایک گونہ سبت کا حکم رکھتا تھا۔اس لئے اسلامی مؤرخین کی یہ روایتیں اپنے اندر صداقت رکھتی ہیں کہ جمعہ کے دن کا نام عروبہ جو قدیم عربوں میں مشہور تھا۔وہ دراصل اہل کتاب سے لیا گیا تھا۔اس سے پہلے اس دن کا نام کچھ اور تھا۔( بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب۔مجتمعات العرب في جاهليتهم۔جزء اول صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۵) غالباً یہی وجہ ہے کہ اہل لغت نے (بوجہ مجمہ و تانیث ) اس کو غیر منصرف قرار دیا ہے۔(لسان العرب تحت لفظ جمع) روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کعب بن لوئی بن غالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ مدت پہلے اس دن کا عربی نام جمعہ رکھا کیونکہ وہ قریش کو اس دن اکٹھا کر کے وعظ ونصیحت کیا کرتے تھے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴۵۶) غرض عروبہ نام کا ماخذ یہودیوں کے درمیان اب تک پایا جاتا ہے اور سبت کی عبادت بھی جمعہ کے دن ہی شروع ہوتی ہے اور یہ دونوں شہادتیں اصل حقیقت کی غماز ہیں۔عالمگیر جنگ اول کے اثناء میں جب میں بیت المقدس میں مقیم تھا تو یہود جمعہ کے دن دو بجے کے قریب بیت المقدس کی قدیم فصیل کے پاس جمع ہو کر اپنی کھوئی ہوئی شوکت پر روتے اور تو رات وزبور وغیرہ کی دعائیں پڑھا کرتے تھے اور پھر اس سے فارغ ہو کر سبت کی تیاری میں مشغول ہو جاتے تھے۔اردو میں اس فصیل کا نام دیوار گریہ ہے اور یہ امر بھی یقینی ہے کہ یہود نے احکام سبت کے بارہ میں شدید سے شدید خلاف ور زیاں کیں بلکہ ان کے بعض انبیاء نے تو ان کی ذلت واد بار کا سارا موجب سبت کی بے حرمتی قرار دیا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہ پیشگوئی کی تھی کہ سبت کی بے حرمتی بنی اسرائیل کی تباہی کا موجب ہوگی۔(تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب استثناء باب ۲۸ آیت ۶۴ ، ۶۵ اور یرمیاہ باب ۲۲ آیت ۸، ۹) یہ سب شواہد و قرائن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد کی تصدیق کرتے ہیں۔