صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 277 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 277

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۷۷ ۱۱ - كتاب الجمعة اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ صرف وضو ہی کیا ہے حالانکہ آپ خوب جانتے ہیں اطرافه: ۸۸۲ کہ رسول اللہ ﷺ الله غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ ۸۷۹: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۸۷۹: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صفوان بن سلیم سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سے صفوان نے عطاء بن یسار سے،عطاء نے حضرت سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن نہانا ہر بالغ پر وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ۔ اطرافه: ٨٥٨، ٨٨٠، ٨٩٥، ٢٦٦٥۔ واجب ہے۔ تشريح : فَضْلُ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: جمعہ کے دن نہانے کے بارے میں جمہور کا مذہب تویہ ہے کہ وہ سنت ہے اور بعض فقہاء کے نزدیک واجب کہ اس کے بغیر نماز جمعہ نہیں ہوتی ۔ (بداية المجتهد۔ کتاب الصلاة الجملة الثالثه الباب الثالث الفصل الرابع فى احكام الجمعة المسألة الأولى في حكم طهر الجمعة) یہ اختلاف مد نظر رکھ کر عنوان باب میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جمعہ کے دن نہانا افضل ہے۔ یہ نہیں کہ اگر نہ نہائے تو نماز نہیں ہوتی ۔ اس رائے کی تائید حدیث نمبر ۸۷۸ سے ہوتی ہے۔ صلى الله الله ۔ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ علم : بعض روایات کے مطابق یہ حضرت عثمان تھے ۔ (مسلم کتاب الجمعة باب (1) تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۶۳۔ حضرت عمر کی یاددہانی کے باوجود حضرت عثمان نے غسل نہیں کیا اور وضو ہی کافی سمجھا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بصورت وجوب نہیں تھا بلکہ بطور مستحب یہی مفہوم واضح کرنے کے لئے روایت نمبر ۷ ۸۷ مقدم کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ فَلْيَغْتَسِلُ مذکورہ بالا رائے کی تائید کرتے ہیں۔ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ کے الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہیں۔ جو حکایہ بیان ہوئے ہیں اور فَلْيَغْتَسِل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں۔ جو امر وجوب پر دلالت نہیں کرتے۔ تیسری روایت جو حضرت ابو سعید خدری کی ہے اور جس سے مؤیدین وجوب غسل نے استدلال کیا ہے۔ مذکورہ بالا دو روایتوں کے بعد نقل کی گئی ہے۔ کے بعد نقل کی گئی ہے۔ اس تقدیم و تاخیر سے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ یہی سمجھانا چاہتے ہیں کہ اس روایت کے الفاظ سے بھی وجوب کا وہی مفہوم نکلتا ہے جو كَانَ يَأْمُرُ اور فَلْيَغْتَسِلُ میں مضمر ہے۔ یعنی وجوب اختیاری نہ کہ وجوب فرض ۔ جیسا کہ امام شافعی نے اس امر کی تصریح کی ہے۔ خطبہ جمعہ کے وقت صحابہ رضوان اللہ علیہم کی