صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 274 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 274

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۷۴ ۱۱ - كتاب الجمعة تھا۔ مکہ مکرمہ میں مسلمان جبر و تشدد کا تختہ مشق تھے اور مدینہ منورہ میں وہ آزاد تھے۔ آپ نے حالات کو مد نظر رکھا اور چونکہ اس وقت تک فَاسْعَوْا کا حکم بالصراحت نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لئے مکہ مکرمہ میں تکلیف مالا طاق میں نہیں ڈالا گیا۔ رہا یہ سوال کہ مکی سورتوں میں نماز جمعہ ں میں نماز جمعہ کی نسبت کے جمعہ کی نسبت کہاں حکم ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جمعہ دراصل ظہر ہی کی نماز ہے۔ پانچ نمازوں کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں اور ان پانچ نمازوں کی فرضیت قرآن مجید سے واضح ہے۔ نماز جمعہ کی باقی خصوصیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح قرآن رآن مجید سے مستنبط فرمائیں یا وحی خفی کی تجلی سے آپ کو معلوم ہوئیں۔ جس طرح کہ پانچ نمازوں سے متعلق دوسرے احکام ۔ یہ خیال صحیح نہیں کہ مدینہ والوں نے خود بخود اپنے اجتہاد سے عروبہ کے دن نماز جمعہ تجویز کر لی تھی اور ان کی تجویز کے مطابق حضرت اسد بن زرارہ جیسے جلیل القدر صحابی نے جمعہ پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ صحابہ کرام تو معمولی معمولی باتوں میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوئی پوچھے بغیر قدم نہ اٹھاتے تھے۔ چہ جائیکہ شریعت کے احکام میں کمی یا زیادتی۔ (مثال کے لئے دیکھئے : کتاب الغسل - روایات باب ۲۲ ، ۲۶) روایت نمبر ۸۹۲ سے یہ استدلال کرنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا جمعہ مدینہ منورہ میں پڑھایا تھا صحیح نہیں۔ اس میں تو مسجد نبوی میں جمعہ پڑھنے کا ذکر ہے نہ کہ مطلق پہلے جمعہ کا۔ بلکہ الفاظ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ سے مسجد نبوی میں جمعہ کی تخصیص ضمنا یہ اشارہ کرتی ہے کہ اس مسجد کے سوا اور بھی کہیں جمعے پڑھے گئے تھے۔ (دیکھئے کتاب الجمعة تشريح باب اروایت نمبر ۸۹۲) غرض صلوۃ جمعہ کی فرضیت مذکورہ بالا آیت سے عیاں ہے اور یہی بات باب کا اصل مضمون ہے۔ آیت إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ کے معنی یہ ہیں کہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ کی ندا سن کر اس کا عملی جواب دینا فرض ہے۔ فَاسْعَوْا کا ارشاد اس فریضہ کی تعمیل کے بارہ میں تاکید مزید ہے۔ لفظ السعیٰ کے معنی ہیں کام کاج ، کاروبار میں مشغولیت اور جد و جہد۔ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ کا یہ مفہوم ہے کہ جیسا دنیوی مشاغل کے لئے اہتمام اور جد و جہد ہو ویسا ہی اہتمام اور جد و جہد نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے ہونا چاہیے۔ سبت کے لغوی معنی ہیں کام کاج چھوڑ کر آرام کرنا ۔ (لسان العرب تحت لفظ سبت) اور اصطلاحی معنے یہ ہیں کہ مشاغل سے کلیہ منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جانا۔ ایک روز عبادت میں سارا دن مشغول رہنے کا حکم بنی اسرائیل میں مخصوص تھا۔ (خروج باب ۳۱ آیت ۱۴ تا ۱۲ خروج باب ۳۵ آیت ۳- اخبار باب (۲۳) جس کی انہوں نے آخر کار خلاف ورزی کی ۔ جمعہ کے روز مسلمانوں کے لئے ایسی کوئی پابندی نہیں جیسی بنی اسرائیل کے لئے تھی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس خصوصیت کا ذکر بایں الفاظ فرماتا ہے: إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ (النحل : ۱۲۵) سبت یعنی مشاغل دنیا سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنے کا حکم انہی لوگوں کے لئے مخصوص تھا جنہوں نے اس کی خلاف ورزی کی ۔ اس آیت کے یہ معنی نہیں کہ ساتواں دن ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ اگر عیسائی زمانہ کی رو میں بہہ کر بجائے ہفتہ، اتوار کو عبادت کا دن منا سکتے ہیں تو یہودیوں کا ایسا کرنا بعید از قیاس نہیں جیسا کہ تاریخی واقعات اور قرائن اس