صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 273 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 273

صحيح البخاری جلد ۲ وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ۔ ۲۷۳ ۱۱ - كتاب الجمعة رہنمائی فرمائی۔ پس لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں۔ یہود کا دن کل ہے اور نصاری کا پرسوں ۔ اطرافه: ۲۳۸، ٨٩٦، ٢٩٥٦، ٣٤٨٦، ٦٦٢٤ ، ٦٨٨٧، ٧٠٣٦، 7495۔ جمعه تشریح : فرض الجمعة جودی فرضی کے متعلق یہ اب اس کے کام کیا گیا ہےکہ بعض فقہاء نے اس کو عیدین کی طرح فرض کفایہ گردانا ہے۔ کفایہ کروانا ہے۔ (بداية المجتهد كتاب الصلاة ۔ الجملة الثالثة۔ الباب الثالث الفصل الأول في وجوب الصلاة) ان كا حديث إِنَّ هَذَا يَوْمٌ جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا (مصنف عبد الرزاق۔ كتاب الجمعة۔ باب الغسل يوم الجمعة۔ جز ۳ صفحہ ۱۹۷) { کہ یہ وہ دن ہے جسے اللہ نے عید بنایا ہے۔ } سے یہ مسئلہ استنباط کرنا قرآن مجید کے مذکورہ بالا حکم کی موجودگی میں ساقط الاعتبار ہے۔ ارشاد فَاسْعَوْا کی تفصیل سے در حقیقت صیغہ امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ اس استدلال کی تائید میں حدیث نمبر ۸۷۶ سے بھی استنباط کیا گیا ہے: هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِى فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ لَهُ ۔ ان الفاظ میں جمعہ کی فرضیت کا صراحتا ذکر ہے۔ جمعہ کو عید قرار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ عیدین کے تمام احکام بھی اس پر عائد ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر کی نسبت فرمایا ہے: لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِى عِيدًا۔ (مسند احمد بن حنبل جزء ۲ صفحه ۳۶۷- حدیث نمبر ۸۵۸۶ ) میری قبر کو عید نہ بنانا۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ بت پرستوں کی تقلید میں اس کی پوجانہ کی جائے۔ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ ۔۔۔۔۔ بعض نے مذکورہ بالا آیت سے جو مدنی سورۃ کی ہے یہ اخذ کیا ہے کہ جمعہ پہلے پہل مدینہ میں فرض ہوا تھا۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۵۶) مگر آیت کے الفاظ اس کے متحمل نہیں بلکہ اس کے برعکس سیاق کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جمعہ اس سورۃ کے نازل ہونے سے پہلے بھی پڑھا جاتا تھا اور بعض لوگ اس میں سستی کرتے تھے۔ اس لئے اس میں تاکیدا نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اذان سن کر فوراً حاضر ہو جایا کریں۔ آیت إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ میں الصلوة کا الف لام مہدی کا ہے جو معہود ذہنی پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی وہ نماز جو لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے اور وہ اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ جمعہ کے دن کون سی نماز ہے جس میں مستعدی کے ساتھ حاضر ہونے کے لئے تاکید کی گئی ہے۔ حضرت کعب بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت اسد بن زرارہ نے ہجرت سے پہلے انصار کو اکٹھا کر کے نماز جمعہ پڑھائی۔ (ابن ماجه۔ كتاب اقامة الصلاة۔ باب في فرض الجمعة ) تفصیل کے لیے دیکھئے: فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۵۸۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے بھی جمعہ پڑھا جاتا تھا۔ مؤرخین اسلام نے صراحت سے ذکر کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں ہی جمعہ آگیا اور آپ نے بنی سالم بن عوف کی بستی میں جمعہ پڑھایا۔ (تاریخ طبرى۔ ذكر ما كان من الامور المذكورة في اول سنة من الهجرة جزء ثانی صفحہ ۷) اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ سورہ جمعہ کے نزول سے بہت پہلے آپ کو نماز جمعہ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا