صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 267
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۷ ١٠ - كتاب الأذان تشریح: خُرُوجُ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ وَالْعَلَسِ: باب ۱۶۳۱۶۲ قائم کرنے کی یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ مسند ابوداؤد مسند ابن خزیمہ مسند احمد بن حنبل اور طبرانی وغیرہ میں ایسی روایتیں آئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لئے اپنے گھر میں ہی نماز پڑھنا بہتر سمجھا ہے۔ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں : لَا تَمْنَعُوا نِسَانَكُمْ مَسَاجِدَ وَ بُيُوتَهُنَّ خَيْرٌ لَّهُنَّ۔(ابوداؤد۔كتاب الصلاة۔باب ما جاء في خروج النساء الى المسجد) اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لئے بہتر ہیں۔ایک دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں: صَلوتُک فِی دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَوتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِک (مسند احمد بن قنبل۔جزء ۶ صفحه ۳۷۱) (صحیح ابن خزيمه۔كتاب الامامة فى الصلاة باب اختيار صلاة المرأة في حجرتها على صلاتها فی دارها) اپنے گھر میں تیری نماز اس نماز سے بہتر ہے جو تو کسی مسجد میں پڑھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۵۱) ان روایتوں کے پیش نظر بعض فقہاء نے عورتوں کے لئے کئی ایک شرطیں عائد کی ہیں۔مثلاً اندھیرا ہو، کپڑوں میں لیٹی ہوں، تا کہ پہچانی نہ جاسکیں، بناؤ سنگھار کر کے نہ جائیں، خوشبو نہ لگائیں، نو جوان عورتیں نہ ہوں ، وغیرہ۔امام بخاریؒ نے فقہاء کے اس خیال کی طرف اشارہ کرنے کے لئے عنوانِ باب کو الفاظ ” رات کے وقت اور اندھیرے سے مقید کیا ہے۔حالانکہ اس باب کی بعض روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں رات کا مطلق ذکر نہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۸۶۸۸۶۶) إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَآءُ كُمُ بِاللَّيْلِ : اس سے بعض شارحین یہ سمجھے ہیں کہ امام بخاری نے ان روایات کو جن میں رات یا تاریکی کا ذکر نہیں، ان روایات پر قیاس کیا ہے جن میں اس کا ذکر ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۴۸) مگر یہ پسی نہیں۔روایت نمبر ۸۶۳ میں ابھی گزر چکا ہے کہ عورتیں عیدین کے لئے دن کے وقت باہر جایا کرتی تھیں۔علاوہ از میں بوقت شب اور اندھیرے میں عورتوں کا مسجدوں میں جانا زیادہ فتنے کا موجب ہوسکتا ہے بہ نسبت دن کے۔کیونکہ دن میں وہ پہچانی جاسکتی ہیں خواہ ان کے چہرے ڈھکے ہی کیوں نہ ہوں۔لباس ، قد و قامت، ڈیل ڈول اور رفتار سے پہچاننا آسان ہوتا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ رات کو فتنے کا زیادہ احتمال ہوتا ہے۔عورتوں کو اس وقت بھی نکلنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ فرمایا کہ اُن کو رات کے وقت بھی نکلنے کی اجازت دو۔(روایت نمبر ۸۶۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھ کر بیٹھے رہنا اور عورتوں کے چلے جانے کا انتظار کرنا بھی بتاتا ہے کہ وہ وقت دن کا ہوتا اور آپ انتظار فرماتے کہ عورتیں بآرام مردوں سے قبل چلی جائیں۔( روایت نمبر ۸۶۶) روایت نمبر ۸۶۹ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں دن کو مسجدوں میں آیا کرتی تھیں۔امام موصوف نے ایسی روایتیں بھی پیش کی ہیں جن میں دن کے وقت عورتوں کے نکلنے کا ذکر ہے اور ایسی بھی جن میں رات کے وقت کا۔غرض دونوں باتیں ثابت ہیں۔لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ على الله مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے ہے کہ آپ نے اُن کو اس لئے نہیں روکا کہ ان میں بناؤ سنگار اور زینت کا اظہار اور خود نمائی جیسی باتیں نہیں پائی جاتی تھیں۔اگر پائی جاتیں تو آپ ان کو روک دیتے۔یہاں نہ دن کا سوال ہے نہ رات کا بلکہ اس روایت سے ضمنا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ موجبات فساد دور کئے جائیں نہ یہ کہ نیک کاموں میں عورتوں کی شمولیت قابل اصلاح امور کی وجہ سے روک دی جائے۔کلام اللہ میں