صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 266 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 266

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۶ ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ لیتے فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ تو عورتیں اپنی اوڑھنیوں میں لپٹی لپٹائی لوٹ جاتیں۔ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ۔ اطرافه ۳۷۲، ٥٧٨، ٨٧٢ اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہ جاتیں۔ ٨٦٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ :۸۶۸ محمد بن مسکین نے ہم سے بیان کیا، کہا: بشر قَالَ حَدَّثَنَا بِشَرٌ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ (بن بکر ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اوزاعی نے ہمیں بتایا۔ (وہ کہتے تھے: ) مکی بن ابی اللَّهِ بْنِ أَبِي أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيْهِ کثیر نے بر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انصاری سے عبداللہ نے اپنے باپ سے سے روایت کی وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو أَنْ أُطَوّلَ فِيْهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میں اسے لمبا کرنے کا فَأَتَجَوْزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ ارادہ رکھتا ہوں ۔ ارادہ رکھتا ہوں اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سنتا عَلَى أُمِّهِ۔ اطرافه: ۷۰۷۔ ہوں تو میں اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں۔ کیونکہ مجھے نا پسند ہوتا ہے کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں ۔ ٨٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۸۶۹ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن سعید سے بچی نے عمرہ سے، عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ہیں : اگر رسول اللہ ﷺ ان بدعتوں کو پاتے جو عورتیں ☆ أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ { الْمَسْجِدَ } کرتی ہیں تو آپ ان کو یقینا مسجد میں آنے سے روک كَمَا مُنِعَثَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قُلْتُ دیتے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روکی گئیں اس لِعَمْرَةَ أَوَ مُنِعْنَ قَالَتْ نَعَمْ۔ پر میں نے عمرہ سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتیں روکی گئی تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ ہی لفظ ” الْمَسْجِدَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ (۴۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔