صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 268
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۸ ١٠ - كتاب الأذان کہیں بھی اس قسم کی ممانعت کا ذکر نہیں۔بلکہ یہ فرمایا ہے : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنْ وَلَا تَبَرُّجُنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلوةَ (الاحزاب : ۳۴) ( اور اپنے گھروں میں ہی رہا کرو اور گذری ہوئی جاہلیت کے سنگھار جیسے سنگھار کی نمائش نہ کیا کر داور نماز کو قائم کر وہ اس آیت میں تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ اور ادھر ادھر بلاضرورت پھرنے سے منع فرمایا ہے اور باجماعت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔(روایت نمبر ۸۶۶،۸۶۵) اِقَامَةُ الصَّلوۃ کے معنے ہیں باجماعت نماز پڑھنا۔ارشاد قَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ کی تشریح لا تبرجن سے کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قَرَارُ فِي الْبَيْتِ کے یہ معنی نہیں کہ عورتیں گھر سے کبھی باہر نہ نکلیں۔بلکہ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ سے مراد ہے آوارگی مخرب اخلاق عریانی اور بے راہ روی جو عربوں میں اسی طرح رائج تھی جیسے آج کل یورپ میں۔روایت نمبر ۸۶۷،۸۶۶ میں دو الگ الگ صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ان کا آپس میں اختلاف نہیں۔ایک میں عورتوں کا مطلق نمازوں میں شریک ہونے کا ذکر ہے اور دوسری میں صبح کے وقت ان کی نماز با جماعت میں شمولیت اور گھروں کو جلد واپسی کا۔حضرت عائشہ کی روایت نمبر ۸۶۷ سے متعلق باب نمبر ۱۶۴ میں الگ مستقل عنوان قائم کر کے اس کے مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے۔اس تعلق میں روایت نمبر ۸۷۲ بھی دیکھئے۔روایت نمبر ۸۶۴ کتاب مواقیت الصلوۃ باب نمبر ۲۴٫۲۲ میں بھی گزر چکی ہے مگر اور عنوان کے ساتھ۔امام موصوف کے مختلف استدلالات ان کے حسن تصرف پر دلالت کرتے ہیں۔بَاب ١٦٤ : صَلَاةُ النِّسَاءِ خَلْفَ الرّجَالِ مردوں کے پیچھے عورتوں کا نماز پڑھنا ۸۷۰: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَرَعَةَ قَالَ :۸۷۰ حي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْري ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ سے، زہری نے ہند بنت حارث سے، ہند نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِيْنَ (یعنی سلامتی کی دعا کرتے ) تو جو نہی آپ سلام ختم يَقْضِي تَسْلِيْمَهُ وَيَمْكُتُ هُوَ فِي مَقَامِهِ کرتے عورتیں اُٹھ کھڑی ہوتیں اور آپ اپنی جگہ کچھ يَسِيْرًا قَبْلَ أَنْ يَقُوْمَ قَالَ نَرَى وَاللهُ أَعْلَمُ دیر ٹھہرے رہتے۔ابن شہاب نے کہا: ہم سمجھتے ہیں أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لِكَيْ يَنْصَرِفَ النِّسَاءُ اور بہتر تو اللہ ہی جانتا ہے کہ آپ کا یہ ٹھہرنا اس لئے قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ۔تھا تا عورتیں پیشتر اس کے کہ اُن کو آدمیوں میں سے کوئی پاسکے،لوٹ جائیں۔