صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 263
صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان اور اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ بچہ مرفوع القلم ہوتا ہے رُفِعَ الْقَلَمُ عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ (مسند احمد بن حنبل جزء ۶ صفحه و اروایت نمبر ۲۴۱۸۲) فقہاء میں ایک اختلاف اس روایت کی بناء پر ہوا ہے جو ابو داؤد، ترندگی، ابن خزیمہ اور حاکم نے اپنی مسندوں میں نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: عَلِمُوا الصَّبِيَّ الصَّلوةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عشر بچے کو نماز سکھاؤ جب کہ وہ سات سال کا ہو اور اسے نماز ترک کرنے کی وجہ سے پیٹو جب وہ دس سال کا ہو۔اس لئے بعض اہل ظاہر دس سال کے بچے پر بھی نماز فرض قرار دیتے ہیں اور اگر وہ تارک صلوۃ ہو تو ان کے نزدیک اسے بدنی سزا دی جائے۔جمہور اس رائے کے خلاف ہیں۔ان کے نزدیک بالغ ہونے پر اس کے لئے نماز فرض ہوتی ہے۔امام بیہقی اس حدیث کو سابقہ حدیث یعنی رُفِعَ القَلَمُ کی بناء پر منسوخ سمجھتے ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۴۶) امام بخاری نے سزاوالی روایت نظر انداز کر دی ہے۔ان کے نزدیک یہ روایت مستند نہیں اور اس بارے میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو دستور تھا اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ چھوٹے بچے بھی نماز جنازہ اور عیدین میں شامل ہوا کرتے تھے۔رشتہ داران کو اپنے ساتھ مسجد میں لے جاتے تھے۔خواہ وہ نابالغ ہوں یا بالغ اور اس طرح بچپن ہی سے ان کو نماز کی نیک عادت ہو جاتی تھی اور بچوں کو سزا دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔روایت نمبر ۸۵۷ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس جو کہ کم سن تھے جنازے میں شریک ہوئے۔روایت نمبر ۶۹۷ سے بھی ان کا کم سن ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ نبی ﷺ ان کے ساتھ محبت سے پیش آتے۔اس عمر میں بچے قیود سے آزاد ہوتے ہیں۔ان کی اس آزادی کی حد بلوغت ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۸۵۸ کا مفہوم ہے۔مگر اس آزادی کے یہ معنے نہیں کہ وہ سکھائے نہ جائیں۔حضرت ابن عباس بجائے دائیں کے بائیں طرف کھڑے ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو دائیں جانب کر دیا ( روایت نمبر ۸۵۹) نمازوں میں حضرت ابن عباس کے سوا دیگر بچوں کی شمولیت بھی ثابت ہوتی ہے ( روایت نمبر ۸۶۱۷۸۶۰ ) باب مذکور میں حضرت ابن عباس کی چار روایتیں آئی ہیں۔یعنی نمبر ۸۵۷ متعلق شمولیت جنازه، نمبر ۸۵۹ بمتعلق شمولیت نماز تہجد، نمبر ۸۶۱ بمتعلق شمولیت حج نمبر ۸۶۳ بمتعلق شمولیت عید۔روایت ۸۵۹ کی وضاحت کے لیے کتاب الوضوء باب نمبر ۵ بھی دیکھئے۔آنحضرت ﷺ جب فوت ہوئے ہیں تو حضرت ابن عباس کی عمر تیرہ سال تھی۔(اسد الغابہ۔ذکر عبداللہ بن عباس) خلاصہ یہ کہ عہد نبوی میں نابالغ بچوں کی شمولیت کا ذکر کر کے مسئلہ معنونہ ایک معقول صورت میں پیش کیا گیا ہے کہ بجائے بدنی سزا کے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ کی جائے۔روایت نمبر ۸۵۹ کے آخر میں قرآن مجید کی آیت إِنِّی أَرَى فِي الْمَنَامِ انِى اَذْبَحُكَ (الصفت : ۱۰۳) کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔اس آیت میں بھی اس اعلیٰ درجے کی تربیت کا ذکر ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسے باپ کی زیر نگرانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ہوئی کہ باپ کے ذکر کرنے پر کہ میں نے ایسا ایسا خواب دیکھا ہے تو انہوں نے بے ساختہ جواب دیا یابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ۔(الصفت : ۱۰۳) اے میرے باپ! جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کریں آپ مجھے انشاء اللہ مستقل مزاج پائیں گے۔(ترمذى۔كتاب الصلاة باب ماجاء متى يؤمر الصبي بالصلاة) (ابوداؤد كتاب الصلاة باب متى يؤمر الغلام بالصلاة) (صحيح ابن خزيمه كتاب الصلاة باب بالصلاة وضربهم على تركها قبل البلوغ۔روایت نمبر ۱۰۰۲) (المستدرك على الصحيحين كتاب الصلاة باب علموا الصبي الصلاة ابن سبع)