صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 262
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۲ ١٠ - كتاب الأذان قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ سے سنا۔ان سے ایک شخص نے پوچھا: کیا آپ بھی رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں شریک ہوئے وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں: اگر میرا آپ سے تعلق نہ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيْرِ ہوتا تو میں شریک نہ ہوتا۔اس سے ان کی مراد ی تھی کہ ان کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے (انہیں یہ موقع ملا) الصَّلْتِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ آنحضرت ﷺ اس نشان کے قریب آئے جو کہ حضرت فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ کثیر بن صلت کے گھر کے قریب تھا اور (صحابہ کو) فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى مخاطب فرمایا۔پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ثُمَّ أَتَى هُوَ وعظ ونصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کے لئے فرمایا تو وَبِلَالٌ الْبَيْتَ۔عورتیں اپنے ہاتھوں کو جھکا جھکا کر اپنی انگوٹھیاں اتارتیں اور حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتی تھیں۔اس کے بعد آپ اور حضرت بلال گھر آئے۔اطرافه ۹۸، ٩٦۲، ٩٦٤ ، ،۹۷۵، ۹۷۷، ۹۷۹، ۹۸۹، ١٤۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ۷۳۲۵ ،۵۸۸۱ ،۰۸۸۰ ،۰۲٤٩ تشریح: وَضَوْءُ الصَّبْيَانِ۔۔۔۔وَحُضُورُهُمُ الْجَمَاعَةَ : باب میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک خاص وجہ سے باجماعت نماز میں شریک ہونے سے روکے گئے ہیں اور اس باب میں اور اگلے بابوں میں بچوں اور عورتوں سے متعلق مخصوص احکام بیان کئے گئے ہیں۔امام ابن حجر نے سابقہ باب کی تشریح میں اپنے خیال کا اظہار کیا ہے جو صیح معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے کتاب الصلوۃ کو ایسے ابواب پر ختم کیا ہے جن میں احکام مساجد کا ذکر ہے۔حالانکہ ان ابواب سے پہلے نماز کی کیفیت اور اس کے طریقہ وغیرہ کا بیان ہے۔اس ترتیب میں انہوں نے صرف نماز فریضہ یعنی با جماعت نماز کو ملحوظ رکھا ہے۔کتاب الاذان کے بعد اب تک انہوں نے کوئی نئی کتاب شروع نہیں کی بلکہ اقامت و امامت ، صف بندی، باجماعت نماز کی ادائیگی اور اس کی کیفیت سے متعلق ہی احکام بیان کئے ہیں اور اس نماز فریضہ ہی کے احکام کو مد نظر رکھ کر آخر میں ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے باجماعت نماز میں حاضر ہونے سے روکے جاسکتے ہیں یا جن سے متعلق بعض قیود و استثنائی صورتیں ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۳۸ زیر تشریح باب (۱۶۰ امام ابن حجر کے اس ملاحظہ سے ظاہر ہے کہ حضرت امام بخاری نے ابواب، احادیث اور روایات اور ان سے متعلقہ کتب کو ایک خاص ترتیب دی ہے یہ ایک بے تعلق مجموع نہیں ہیں۔فقہاء اسلام نے بچوں کی نسبت یہ سوال اٹھایا ہے کہ کس عمر میں انہیں وضو وغیرہ سکھایا جائے اور کب ان پر نماز واجب ہوتی ہے۔اس مسئلہ میں تو جمہور متفق ہیں کہ بالغ مسلمان پر نماز واجب ہو جاتی ہے اور ایسا ہی غسل بھی۔( روایت نمبر ۸۵۸)