صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 264 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 264

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۴ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٦٢ : حُرُوْجُ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ وَالْغَلَس عورتوں کا رات کو اور اندھیرے میں مسجدوں کی طرف نکل کر جانا ٨٦٤: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۸۶۴ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا : شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْر عَنْ عَائِشَةَ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔آپ بیان کرتی ہیں: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دیر نَادَاهُ عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ کردی یہاں تک کہ آپ کو حضرت عمر نے آواز دی فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔اس پر آپ باہر آئے فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ غَيْرُكُمْ مِنْ أَهْلِ اور فرمایا: اہل زمین میں سے کوئی بھی سوائے تمہارے الْأَرْضِ وَلَا يُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ اس (نماز) کا انتظار نہیں کر رہا اوران دنوں مدینہ میں وَكَانُوا يُصَلُّوْنَ الْعَتَمَةَ فِيْمَا بَيْنَ أَنَّ ہی نماز پڑھی جایا کرتی تھی اور عشاء کی نماز شفق ڈوبنے کے بعد سے رات کی پہلی تہائی تک پڑھا يَغِيْبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ۔کرتے تھے۔اطرافه ٥٦٦، ٥٦٩ ٨٦٢ ٨٦٥: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى :۸۲۵ عبید اللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ انہوں نے حنظلہ سے، حنظلہ نے سالم بن عبداللہ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ ( بن عمر) سے ، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تمہاری الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ۔عورتیں رات کو مسجد میں جانے کے لئے تم سے اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دو۔