صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 259 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 259

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۹ ١٠ - كتاب الأذان الرحم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ہے ، حضرت ابو سعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جمعہ کے روز ہر جوان وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ۔ آدمی پر نہانا واجب ہے۔ اطرافه: ۸۷۹، ۸۸۰، ٠٨٩٥ ٢٦٦٥ ٨٥٩ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ۸۵۹ : علی بن عبداللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي سفیان نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن دینار) سے مروی ہے کہ كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا انہوں نے کہا: کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ☆ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً فَقَامَ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہ ☆ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ فِي کے پاس ایک رات سویا۔ نبی ﷺ ہو گئے ۔ جب رات صلى الله کا ایک حصہ گزر گیا تو رسول اللہ ﷺ اُٹھے اور ایک پرانے بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ مشکیزہ سے جو لٹک رہا تھا ہلکا سا وضو کیا۔ عمر و بن دینار وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَيِّ مُعَلَّقِ وُضُوْءًا اسے بہت ہی ہلکا بتاتے تھے۔ پھر آپ کھڑے ہو کر نماز خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا ثُمَّ پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور آپ ہی کی طرح (ہلکا سا ) قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِّمَّا وضو کیا۔ پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ نے مجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اپنے دائیں طرف کر لیا۔ پھر فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَا آپ نے جتنی اللہ نے چاہا نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ شَاءَ اللهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ لیٹ گئے اور سو گئے ۔ یہاں تک کہ آپ نے گہرا سانس فَأَتَاهُ الْمُنَادِي يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ لیا ۔ پھر مؤذن آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے آپ إلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قُلْنَا کے پاس آیا۔ آپ اٹھے اور اس کے ساتھ نماز کے لئے گئے اور نماز پڑھائی اور آپ نے وضو نہیں کیا۔ (سفیان لِعَمْرِو إِنَّ نَاسًا نَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله کہتے ہیں ہم نے عمرو بن دینار) سے کہا کہ بعض لوگ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ صلى الله عليه کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں اور آپ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ إِنَّ کا دل نہیں ہوتا تھا۔ عمرو بن دینار ) نے کہا: میں نے عبید رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرَى فِي بن عمیر کو کہتے سنا ہے کہ انبیاء کی رؤیا وحی ہوتی ہے ( اور یہ د فتح الباری مطبوعہ بولاق میں مقام کی بجائے ”فنام“ کا لفظ ہے ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۴۴۵) ترجمہ اس کے مطابق۔ ہے۔