صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 259
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۹ ١٠ - كتاب الأذان اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سے، حضرت ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم - روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جمعہ کے روز ہر جوان وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِم۔اطرافه ،۸۷۹، ۸۸۰ ۸۹ ۲۶۶۰۰ بَعْض اللَّيْلِ قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ آدمی پر نہانا واجب ہے۔٨٥٩: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ۸۵۹: علی بن عبد اللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو قَالَ أَخْبَرَنِي سفیان نے ہمیں بتایا۔عمرو بن دینار ) سے مروی ہے کہ كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا انہوں نے کہا: کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قَالَ بِتُ عِنْدَ حَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً فَقَامَ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔کہا: میں اپنی خالہ حضرت میمونہ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ فِی کے پاس ایک رات سویا۔نبی ﷺے سو گئے۔* جب رات کا ایک حصہ گذر گیا تو رسول اللہ علی اللہ اُٹھے اور ایک پرانے مشکیزہ سے جو لٹک رہا تھا ہلکا سا وضو کیا۔عمرو بن دینار وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنِّ مُعَلَّقَ وُضُوْءًا اسے بہت ہی ہلکا بتاتے تھے۔پھر آپ کھڑے ہو کر نماز حَفِيْفًا يُحَقِّفُهُ عَمْرُو وَيُقَلَلُهُ جِدًّا ثُمَّ پڑھنے لگے۔میں بھی اٹھا اور آپ ہی کی طرح ہال کا سا) قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوَا مِّمَّا وضو کیا۔پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔آپ تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ نے مجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اپنے دائیں طرف کر لیا۔پھر فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يُمِيْنِهِ ثُمَّ صَلَّى مَا آپ نے جتنی اللہ نے چاہا نماز پڑھی۔اس کے بعد آپ شَاءَ اللهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ لیٹ گئے اور سو گئے۔یہاں تک کہ آپ نے گہرا سانس فَأَتَاهُ الْمُنَادِي يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ لیا۔پھر مؤذن آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے آپ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأَ قُلْنَا کے پاس آیا۔آپ اٹھے اور اس کے ساتھ نماز کے لئے گئے اور نماز پڑھائی اور آپ نے وضو نہیں کیا۔(سفیان لِعَمْرِو إِنَّ نَاسًا يَقُوْلُوْنَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ کہتے ہیں ) ہم نے عمر و بن دینار ) سے کہا کہ بعض لوگ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں اور آپ عَمْرُو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرِ يَقُولُ إِنَّ کا دل نہیں سوتا تھا۔عمرو بن دینار ) نے کہا: میں نے عبید رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرَى فِي بن عمیر کو کہتے سنا ہے کہ انبیاء کی رؤیا وحی ہوتی ہے ( اور یہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں "فَقَامَ “ کی بجائے قیام کا لفظ ہے (فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۴۴۵ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔