صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 258
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۸ ١٠ - كتاب الأذان عادت روایت نمبر ۸۵۴ کے آخر میں ابن جریج کے حوالے میں الفاظ إِلَّا نَتنَہ پر ہی اکتفاء کیا ہے تا قارئین کی توجہ پر ہمیز کے اصل سبب کی طرف منعطف کریں۔غذاؤں سے روح انسانی میں لطافت یا کثافت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے اسلام نے غذا کے بارے میں پابندیاں عائد کی ہیں۔اس دلچسپ مضمون کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اسلامی اصول کی فلاسفی۔سوال اول کا جواب۔تیسری حالت نفس مطمئنہ صفحہ ۴ تا ۱۰۔روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۱۸ تا ۳۲۴۔بَاب ١٦١ : وُضُوءُ الصَّبْيَانِ وَمَتَى يَجِبُ عَلَيْهِمُ الْغُسْلُ وَالطُّهُوْرُ لڑکوں کا وضو کرنا اور نہانا اور پاک وصاف رہنا کب واجب ہوتا ہے؟ ہونا اور ان کی صفیں۔وَحُضُورُهُمُ الْجَمَاعَةَ وَالْعِيْدَيْنِ اور ان کا جماعت ، عیدین اور جنازوں میں حاضر اور وَالْجَنَائِرَ وَصُفُوْفُهُمْ :٨٥٧ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى قَالَ :۸۵ (محمد) بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ہم سے غندر ( محمد بن جعفر ) نے بیان کیا کہ شعبہ نے سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِي قَالَ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے سلیمان سَمِعْتُ الشَّعْبِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ مَّرَّ شیبانی سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ میں نے شعمی سے سنا۔انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جو نبی صلی اللہ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرِ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ اکیلی قبر کے پاس منبوذ فأَمَّهُمْ وَصَفَوْا عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا سے گذرا تھا۔آپ لوگوں کے آگے کھڑے ہو گئے عَمْرِو مَنْ حَدَّثَكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ۔اور لوگوں نے قبر کے سامنے صف باندھی۔میں نے (شعمی سے) پوچھا: اے ابو عمرو! آپ کو کس نے بتایا ؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت ابن عباس نے۔اطرافه: ۱۲۴۷، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ۱۳۲۲، ۱۳۲۶، ١٣٣٦، ١٣٤٠۔٨٥٨ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۸۵۸ علی بن عبد اللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي کہا: سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ نے کہا: صفوان بن سلیم نے مجھے بتایا۔انہوں نے عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى عطاء بن یار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری