صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 257 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 257

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۷ ١٠ - كتاب الأذان النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ بارے میں کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا أَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جو اس پودے سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔اطرافه: ٥٤٥١ تشریح: مَا جَاءَ فِى الثَّوْمِ النّي وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ : عنوان باب میں مسجد کے قریب نہ آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۸۵۶ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَقْرَبْنَا أَوْلَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا۔ہمارے قریب نہ آئے اور ہمارے ساتھ نمازوں میں شریک نہ ہو۔اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے ارشاد کی تعمیل کا تعلق مسجد میں آنے اور باجماعت نماز پڑھنے سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک نماز اور پاکیزگی آپس میں لازم ملزوم ہیں اور یہ کہ جب لوگ اکٹھے ہوں تو اس وقت انسان کو طہارت و نفاست کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔جو لوگ میلے کچیلے کپڑوں میں نماز پڑھتے ہیں اور مسجدوں میں داخل ہوتے وقت یہ خیال نہیں رکھتے کہ ان کے منہ اور بدن اور کپڑوں کی بدبو دوسروں کے لئے سانس لینا دشوار کر دے گی ، وہ غور کریں کہ ان کی طرف سے مذکورہ بالا حکم کی کہاں تک تعمیل کی جاتی ہے۔كرات اور مِنَ الْجُوعِ اَوْ غَيْرِہ کے الفاظ جو عنوان باب میں ہیں۔وہ صحیح بخاری کی روایتوں میں نہیں۔بعض دوسری روایتوں میں ہیں۔لہسن پیاز اور ہر دوسری بد بودار شے کا استعمال بھی مکروہ ہے۔بھوک وغیرہ کی کوئی قید نہیں بلکہ بد بودار اشیاء کھا کر نماز میں شریک ہونے کی تخصیص ہے۔روایت نمبر ۸۵۴ کے آخر میں راوی کے شک کا ذکر ہے کہ آیا کچا لہسن مراد ہے یا مطلق اس کی بد بو جو پکنے کے بعد بھی آتی ہے۔عنوان باب میں امام بخاری نے کچا لہسن کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ لہسن اور پیاز ہانڈی میں بھی ڈالے جاتے ہیں اور پکنے پر اس کی بو کم ہو جاتی ہے۔اس سے آپ نے منع نہیں فرمایا۔روایت نمبر ۸۵۵ بھی اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے لائی گئی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ایک صحابی نے بھی کھانے سے انکار کیا اور آپ نے فرمایا: كُلِّ فَانِى اُنَاجِي مَنْ لَّا تُنَاجِی تم کھا لو کیونکہ میں اس سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم مناجات نہیں کرتے۔مسن سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ہے اور ملائکہ بھی۔روحانیت میں جس قدر طہارت و لطافت پیدا ہوتی ہے اسی قدر زیادہ گہرا تعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کے ساتھ ہوتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کراہیت ایک حقیقت پر مبنی تھی۔آپ کو اللہ تعالیٰ سے شرف مکالمہ و مخاطبہ حاصل تھا اور روح القدس اور ملائكة الله کی تجلیات آپ پر ہر آن ہوتی تھیں اور آپ کے احساسات حد درجہ لطیف تھے۔پس آپ کا نہ کھانا معنے رکھتا ہے۔دوسرے کو اجازت دینے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ چیزیں استعمال کرنا جائز ہیں لیکن ایسی حالت میں بغیر منہ صاف کئے مسجد ( یا مجلس ) میں نہیں آنا چاہیے ، تا دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔اس تعلق میں ملاحظہ ہو کتاب الصلاۃ ، ابواب آداب مسجد باب ۶۶ ، باب ۶۷ ، باب ۸۳، باب ۸۴ - مذکورہ بالا واقعہ سے امام موصوف نے کچے اور پکے ہوئے لہسن پیاز اور گند نے سے متعلق استدلال کیا ہے اور حسب