صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 256
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۶ ١٠ - كتاب الأذان فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا: وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله ہماری مسجد سے الگ رہے اور چاہیے کہ اپنے گھر میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَدْرِ فِيْهِ خَضِرَات بیٹھا رہے اور نبی ﷺ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی مِنْ بُقُوْلٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ جس میں ہری ترکاریاں تھیں۔آپ نے اس میں فَأَخْبِرَ بِمَا فِيْهَا مِنَ الْبُقُوْلِ فَقَالَ ہو پائی اور دریافت کیا۔آپ کو جو جو اس میں ترکاریاں قَرِبُوهَا إِلَى بَعْض أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ تھیں بتائی گئیں۔آپ نے فرمایا: فلاں صحابی کے فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ كُلْ فَإِنِّي پاس لے جاؤ جو آپ کے ساتھ تھا۔جب آپ نے أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي۔اسے دیکھا کہ اس نے بھی کھانا نا پسند کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم کھاؤ، میں تو اس سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم مناجات نہیں کرتے۔وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ اور احمد بن صالح نے ابن وہب سے روایت کرتے أُتِيَ بِبَدْرٍ وَقَالَ ابْنُ وَهْبِ يَعْنِي طَبَقًا فِيهِ ہوئے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: اُتِى بِبَدْرٍ (بجائے خَضِرَاتٌ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ وَأَبُو صَفْوَانَ أُتِيَ بِقِدْرٍ ) ابن وہب نے کہا: یعنی تھالی جس میں ( عَنْ يُوْنُسَ قِصَّةَ الْقِدْر فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ هری ترکاریاں تھیں اور لیٹ اور ابو صفوان نے یونس قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي الْحَدِيثِ۔سے ہانڈی کا واقعہ نہیں بیان کیا۔( امام بخاری کہتے ہیں : ( اس لئے میں نہیں جانتا کہ یہ زہری کا قول ہے اطرافه ٨٥٤، ٥٤٥٢ ٧٣٥٩۔یا حدیث میں ہی ایسا آیا ہے۔٨٥٦: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَر قَالَ حَدَّثَنَا ۸۵۶: ابو عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ سَأَلَ نے ہمیں بتایا۔عبدالعزیز سے مروی ہے کہ انہوں رَجُلٌ أَنَسًا مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى الله نے کہا: ایک شخص نے حضرت انس بن مالک) سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ فِي القَوْمِ فَقَالَ قَالَ پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے