صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 255
صحيح البخاری جلد ۲ عَنِ ۲۵۵ ١٠ - كتاب الأذان ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نافع نے مجھ سے بیان کیا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر خَيْبَرَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي میں فرمایا: جس نے اس پودے سے کھایا، یعنی لہسن النُّومَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا۔سے، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔اطرافه ٤۲۱٥ ،٤۲۱۷، ٤۲۱۸، ٥٥٢١ ٥٥٢٢ ٨٥٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۸۵۴ عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ ابو عاصم بن ضحاک) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاء قَالَ سَمِعْتُ نے کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔کہا: عطاء نے مجھے بِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله بتا یا۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يُرِيدُ عبد الله سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الْقُوْمَ فَلَا يَغْشَانَا فِي مَسَاجِدِنَا قُلْتُ مَا فرمایا: جو اس پودے سے کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ يَعْنِي بِهِ قَالَ مَا أَرَاهُ يَعْنِي إِلَّا نِيْتَهُ وَقَالَ آئے۔میں نے حضرت جابر سے پوچھا: اس سے مَحْلَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا نَتْنَهُ آپ کی کیا مراد تھی ؟ انہوں نے جواب دیا: میرا تو یہی خیال ہے کہ اس سے آپ کی مراد کچا لہسن تھا اور مخلد بن یزید نے ابن جریج سے روایت کرتے اطرافه ٨٥٥، ٥٤٥٢ ٧٣٥٩۔ہوئے کہا: اس کی بد بومرا تھی۔٨٥٥: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرِ قَالَ :۸۵۵: سعيد بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ ابن وہب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس (بن شِهَابٍ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ يزيد) سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی اللَّهِ زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ عطاء کا خیال ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ ثُوْمًا أَوْ بَصَلا کا خیال ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے