صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 254
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۴ ١٠ - كتاب الأذان ٨٥٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا :۸۵۲: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے عمارہ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَجْعَلُ بن عمیر سے ، عمارہ نے اسود سے روایت کی کہ انہوں أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے تھے کہ تم میں أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَّا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ سے کوئی بھی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (خواہ مخواہ) یہ خیال کرے کہ اس کے لئے ضروری ہے داہنی طرف سے ہی مڑ کر بیٹھے۔میں نے نبی كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَّسَارِهِ۔صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دفعہ دیکھا کہ آپ بائیں طرف سے بھی مڑتے۔تشریح: الانْقِتَالُ وَالْاِنْصِرَافُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ : یہ باب در حقیقت خاتمہ ہے سابقہ تین ابواب کا جن میں ان اختلافات کا حل کیا گیا ہے جو بے معنی اور بے مقصد ہیں۔لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَان شَيْئًا مِنْ صَلاتِهِ۔بلاضرورت مسائل در مسائل پیدا کرنا اور ان پر زور دینا شیطانی وساوس کا نتیجہ ہے اور امت میں اختلافات بڑھانے کا راستہ کھولنا ہے۔اَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَى اللهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ۔یعنی اللہ کو سب سے پیارا دین یہ ہے کہ انسان سیدھا برجوع الی اللہ ہو۔ہر ایک ٹیڑھے پن سے مبرا ہو اور اعمال کو آسانی سے بجالانے والا ہو۔اس تعلق میں کتاب الایمان باب ۲۹ بھی دیکھئے۔بَاب ١٦٠ : مَا جَاءَ فِي النُّوْمِ النِّيَ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ کچے لہسن اور پیاز اور گندنا سے متعلق جو وارد ہوا ہے وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمانا کہ جو بھوک یا کسی اور القَوْمَ أَو الْبَصَلَ مِنَ الْجُوْعِ أَوْ غَيْرِهِ وجہ سے لہسن یا پیاز کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا۔٨٥٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۸۵۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: جی نے يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ہمیں بتایا۔عبید اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: