صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 253
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۳ ١٠ - كتاب الأذان شَيْئًا مِنْ تَبْرِ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ سے تجب میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس کچھ سونا يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ۔ تھا جو مجھے یاد آیا اور میں نے پسند نہ کیا کہ وہ میری توجہ کو اطرافه: ۱۲۲۱، 1430، ٦٢75۔ (ذکر الہی سے ) روکے رکھے۔ اس لئے میں نے اسے تقسیم کرنے کے لئے کہہ دیا ہے۔ ا تشريح : مَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَذَكَرَ حَاجَةً فَتَخَطَّاهُمُ: باب ۱۵۶ کے بعد باب ۱۵۷ اور باب ۱۵۸ قائم کر کے امام بخاری یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز فریضہ کے بعد اپنی نماز کی جگہ میں تھوڑی دیر کے لئے بیٹھنا یا وہاں سے چلے جانا مختلف حالات کے تحت ہوا کرتا تھا۔ یہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے مشار الیہ بابوں کے بعد باب ۱۵۸ علی الترتیب قائم کیا ہے۔ روایت نمبر ۱ ۸۵ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عادت تھی کہ نماز فریضہ کے بعد مسجد میں کچھ دیر ٹھہرتے ۔ ذکر الہی کرتے کبھی نفل پڑھتے اور کبھی لوگوں سے باتیں فرماتے ۔ اس روایت کے الفاظ فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي کا مطلب بیان کرتے ہوئے امام ابن حجر لکھتے حجر لکھتے ہیں کہ میں نے ناپسند کیا کہ سونے کی ڈلی کا خیال مجھے توجہ الی اللہ سے روکے ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۳۵) آپ کی عادت تھی کہ کسی قسم کا مال اپنے پاس نہیں رہنے دیتے تھے۔ جو کچھ آتا وہ فی سبیل اللہ خرچ کر دیتے تھے۔ جس سونے کی ڈلی کا یہاں ذکر ہے وہ آپ تقسیم کرنا بھول گئے تھے۔ اسلئے آپ کو فکر ہوئی اور آپ نے اس کے تقسیم کر ، اس کے تقسیم کرنے میں جلدی کی ۔ اس واقعہ سے امام موصوف دو باتیں ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔ اول یہ کہ نماز ایسی حالت میں ادا کی جائے جس میں یکسوئی ہو۔ دوم: نماز فریضہ کے بعد ذکر الہی کا وجوب اور یہ بھی ایسی حالت میں جس میں ذہن دیگر خیالات سے خالی ہو۔ اس بار بار کے ذکر الہی سے نفس میں ذکر الہی کی دائمی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس سے بالآ خر عبادت گزار لوگ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (المعارج (۲۴) { وہ لوگ جو اپنی نماز پر دوام اختیار کرنے والے ہیں} کا مصداق ہو جاتے ہیں۔ بَاب ١٥٩ : الْإِنْفِتَالُ وَالْإِنْصِرَافُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشِّمَالِ دائیں اور بائیں سے مڑ کر بیٹھنا یا پھرنا وَكَانَ أَنَسٌ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ اور حضرت انس بن مالک ) دائیں سے بھی اور وَعَنْ يَسَارِهِ وَيَعِيْبُ عَلَى مَنْ يَتَوَفَّى بائیں سے بھی مڑ کر بیٹھتے تھے اور اس شخص پر اعتراض أَوْ مَنْ يَعْمِدُ الْإِنْفِتَالَ عَنْ يَمِينِهِ۔ کیا کرتے تھے جو عمداً داہنی طرف سے مڑ کر بیٹھنے کا قصد کیا کرتا۔