صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 252 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 252

۲۵۲ ١٠ - كتاب الأذان صحيح البخاری جلد ۲ ابوداؤد نے مغیرہ بن شعبہ سے بایں الفاظ نقل کیا ہے : لَا يُصَلَّى الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيْهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ (ابوداؤد۔كتاب الصلاة، باب الامام يتطوع في مكانه) یعنی امام اس جگہ نقل نہ پڑھے جہاں اس نے فرض نماز پڑھی ہے بلکہ ایک طرف ہٹ کر پڑھے۔مگر یہ روایت جیسا کہ عنوان باب میں بتایا گیا ہے، صحیح نہیں جہاں چاہے نفل پڑھ سکتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ نفل عمونا گھر میں پڑھا کرتے تھے اور اس بارے میں آپ کا ایک ارشاد بھی روایت نمبر ۴۳۲ میں گذر چکا ہے۔یہاں پر احناف، حنابل اور شوافع نے بھی ایک اختلاف اٹھایا ہے اور یہ کہ آیا ذکر الہی نوافل پڑھ کر کرے یا ذکر الہی کے بعد نوافل پڑھے۔ارشاد تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَوَةٍ ( نمبر ۶۳۲۹) کی بناء پر جمہور کا یہ مذہب ہے کہ نماز فریضہ کے بعد ذکر الہی کرے اور پھر نفل پڑھے۔یہ اختلاف یونہی ہے۔نماز فریضہ کے بعد بھی ذکر الہی کر سکتا ہے اور نوافل کے بعد بھی۔جیسا کہ خَلْفَ كُلّ صَلَاةٍ ( نمبر ۸۴۳) کا مفہوم ہے۔كُلّ صَلوٰة سے ہر قتم کی نماز مراد ہو سکتی ہے، یعنی فرائض و نوافل۔اِمْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْش : روایت نمبر ۸۴۹ کے آخر میں بند خاتون سے متعلق یہ بحث جو اٹھائی گئی ہے کہ آیادہ فراسیہ ہے یا قرشیہ؟ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ دونوں نسبتیں درست ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ قبیلہ بنی فراس میں سے ہونے کی وجہ سے ہند کوفراسیہ کہتے تھے اور پھر یہ لفظ بگڑ کر قرشیہ ہو گیا۔امام موصوف نے لیٹ کی روایت کا حوالہ دے کر یہ خیال رڈ کیا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: فتح الباری جزء ثانی صفحه ۴۳۴) بَاب ١٥٨ : مَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَذَكَرَ حَاجَةً فَتَحَطَّاهُمْ جولوگوں کو نماز پڑھا چکے اور پھر اس کو کوئی ضروری کام یاد آئے اور وہ لوگوں سے گذر کر چلا جائے ٨٥١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ :۸۵۱ محمد بن عبید نے ہم سے بیان کیا، کہا: عیسی بن قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُس یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمر بن سعید سے روایت عَنْ عُمَرَ بْن سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ کی، کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔عقبہ سے مروی ہے أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ مدینہ میں عصر کی نماز پڑھی۔آپ نے سلام پھیرا اور فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّى رِقَابَ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنوں سے النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ حُجَرٍ نِسَائِهِ فَفَزِعَ گزرتے ہوئے اپنی بیبیوں کے ایک حجرہ کی طرف النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى گے۔لوگ آپ کی اس جلدی سے گھبرا گئے۔پھر آپ أَنَّهُمْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ ذَكَرْتُ ان کے پاس باہر آئے اور دیکھا کہ وہ آپ کی اس جلدی