صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 251 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 251

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۱ ١٠ - كتاب الأذان وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ اور ابن وہب نے یونس سے نقل کیا انہوں نے ابن شِهَابٍ أَخْبَرَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ وَقَالَ شہاب سے روایت کی کہ ہند فراسیہ نے مجھے بتایا اور عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ عثمان بن عمر نے کہا: یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے الزُّهْرِي حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْفِرَاسِيَّةُ وَقَالَ مروی ہے۔انہوں نے کہا: ہندفراسیہ نے مجھے بتایا اور الزُّبَيْدِيُّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ هِنْدَ بِنتَ ( محمد بن وقیع ) زبیدی نے کہا: مجھے کوزہری نے بتایا کہ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ ہند بنت حارث قرشیہ نے انہیں خبر دی اور وہ معبد بن تَحْتَ مَعْبَدِ بْنِ الْمِقْدَادِ وَهُوَ حَلِيْفٌ مقداد کی بیوی تھیں اور یہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور وہ بَنِي زُهْرَةً وَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس جایا کرتی تھیں النبي ﷺ وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي اور شعیب نے زہری سے نقل کیا کہ ہند قرشیہ نے مجھ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ الْقُرَشِيَّةُ وَقَالَ ابْنُ أَبِي سے بیان کیا۔اور ابن ابی عتیق ( محمد بن عبد اللہ ) نے عَتِيْقِ عَنِ الزُّهْرِيَ عَنْ هِنْدِ الْفِرَاسِيَّةِ بھی زہری سے نقل کیا اور زہری نے ہند فراسیہ سے روایت کی۔اور لیٹ نے کہا: بسیجی بن سعید نے مجھ سے وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بیان کیا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہ قریش کی ایک عورت سے مروی ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قُرَيْشٍ حَدَّثَتْهُ عَنِ النَّبِيِّ اطرافه: ۸۳۷، ٨٤٩۔تشریح: سے روایت کرتے ہوئے ان سے بیان کیا۔مُكْثُ الْإِمَامِ فِى مُصَلَّاهُ بَعْدَ السَّلَامِ : جس مقصد کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے عنوان باب میں درج کردہ روایت سے حوالہ واضح ہے۔بعض فقہاء اس جگہ نوافل پڑھنا مستحب سمجھتے ہیں، جہاں نماز فریضہ پڑھی ہو اور بعض نہیں۔چنانچہ ابو داؤد نے حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت اس بارہ میں نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: أَيَعْجِزُ اَحَدُ كُمُ أَنْ يَتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَرَ اَوْ عَنْ يَمِينِهِ اَوْ عَنْ شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ يَعْنِي فِي السُّبُحَةِ (ابوداؤد۔كتاب الصلاة، باب في الرجل يتطوع في مكانه الذي صلى فيه المكتوبة) یعنی کیا تم میں سے کوئی اتنا عاجز ہے کہ نفل نماز پڑھنے کے لئے آگے یا پیچھے، دائیں یا بائیں ہو جائے۔امام بیہقی نے یہ روایت بھی ذکر کی ہے: إِذَا أَرَادَ أحَدُكُمْ أَن يَتَطَوَّعَ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ فَلْيَتَقَدَّم أو لِيَتَأَخَّرُ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ (السنن الكبرى للبيهقي۔جزء ثاني۔كتاب الصلاة، باب الامام يتحول عن مكانه اذا اراد ان ينطوع في المسجد۔روایت نمبر ۲۸۲۵) یعنی تم میں سے کوئی نماز فریضہ کے بعد نفل پڑھنا چاہے تو آگے ہو جائے یا پیچھے۔یا اپنے دائیں جانب ہو جائے یا اپنی بائیں جانب۔اور