صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 249 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 249

صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۲۴۹ ١٠ - كتاب الأذان يَسْتَقْبلُ الاِمَامُ النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ: باب مذکورہ یہ بتانے کے لئے قائم کیا گیا ہے کہ منصب امامت کے فرائض میں سے یہ بھی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے اجتماع سے فائدہ اٹھائے اور ان سے ایسی باتیں کرے جو ان کی اصلاح کا موجب ہوں۔چنانچہ باب کی پہلی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ذکر کیا گیا ہے اور باقی دو روایتوں میں آپ کے وعظ و نصیحت کرنے کا۔إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ : امام بخاری مندرجہ روایتوں سے یہی سمجھانا چاہتے ہیں کہ امام کا مڑنا اور مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھ جانائی ذاتہ قابل التفات مسئلہ نہیں، جبکہ اس غرض و غایت سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے ، جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔حضرت سمرہ بن جندب کی روایت نمبر ۸۴۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوا کرتے تھے: اِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجُهِهِ۔برامام کے لئے ضروری ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کی صحیح معنوں میں اتباع کرے۔آپ نے ان کے مشر کا نہ تو ہمات مٹاکر ان کی جگہ خالص توحید کی روح ان کے اندر پھونک دی اور ان کو یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی منبع فیوض و برکات ہے۔دعا اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ کا یہی مفہوم ہے۔أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِى مُؤْمِنْ بِى وَ كَافِرٌ : عرب لوگ مشرک اقوام کی طرح ستاروں کی بھی پرستش کیا کرتے تھے اور ان کا یہ اعتقاد تھا کہ ان کی قسمتیں ان سے براہ راست وابستہ ہیں۔زرخیزی، قحط سالی اور برسات کا ہونا یا نہ ہونا اور خوش بختی اور بدبختی ان کے اختیار و قبضہ میں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موقع محل کی مناسبت سے ان کے اس عقیدہ باطل کی بیخ کنی فرمائی۔مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا : مُطِرُنَا بِنَوْءِ كَذَا سے یہ مراد ہے کہ فلاں ستارے کی مہربانی سے بارش ہوئی ہے۔روایت نمبر ۸۴۶ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مومن اور کا فرنسبتی الفاظ ہیں۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا واقعہ میں یہ دونوں لفظ ستاروں کی تاثیرات ماننے والوں یا ان کا انکار کرنے والوں کے حق میں استعمال فرمائے ہیں۔اس تعلق میں دیکھئے : کتاب المغازی باب ۳۵ غزوہ حدیبیہ۔بَاب ١٥٧ : مُكْثُ الْإِمَامِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ السَّلَامِ سلام کے بعد امام کا اپنی نماز کی جگہ میں ٹھہرنا ٨٤٨: وَقَالَ لَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۸۴۸ اور آدم نے ہم سے کہا۔شعبہ نے ہمیں عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے يُصَلِّي فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيْهِ روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر ( نوافل ) الْفَرِيضَةَ وَفَعَلَهُ الْقَاسِمُ وَيُذْكَرُ عَنْ اس جگہ پڑھا کرتے تھے جس جگہ نماز فریضہ پڑھتے