صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 248
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۸ ١٠ - كتاب الأذان صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز بارش کے بعد جو رات کو سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ہوئی تھی پڑھائی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوْا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ تمہارے رب عز و جل نے کیا فرمایا ہے ۔ فرمایا ہے۔ لوگوں نے أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: میرے بندوں میں سے آج صبح بعض مجھ پر ایمان فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ لانے والے ہوئے اور بعض میرا انکار کرنے والے ۔ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ میرا مومن ہے اور كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ۔ ستاروں کا کافر۔ اور جس نے کہا کہ ہم پر (بارش) فلاں فلاں (ستارے کے نکلنے کی وجہ سے ہوئی ہے وہ اطرافه: ۱۰۳۸، 4147، 7503۔ میرا کافر اور ستاروں کا مومن ہے۔ صلی الله ٨٤٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ سَمِعَ يَزِيدَ :۸۴۷ عبدالله (بن منیر ) نے ہم سے بیان کیا۔ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَخَرَ انہوں نے یزید ( بن ہارون ) سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ذَاتَ حمید نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالک) سے لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک رات آنحضرت ﷺ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ نے نماز میں آدھی رات تک دیر کر دی۔ پھر ہمارے النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوْا وَإِنَّكُمْ لَنْ پاس تشریف لائے۔ جب آپ نماز پڑھا چکے تو آپ تَزَالُوْا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ۔ نے ہماری طرف منہ کر کے فرمایا : لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں اور سو رہے ہیں اور تمہاری یہ حالت ہے کہ جب اطرافه: ٥٧٢ ٦٠٠، ٦٦١ ، ٥٨٦٩ تک تم نماز کی انتظار کرتے رہے نماز ہی میں رہے۔