صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 246
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۶ ١٠ - كتاب الأذان الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ انہوں نے حکم سے، حکم نے قاسم بن مخیمرہ سے اور وَرَّادٍ بِهَذَا وَقَالَ الْحَسَنُ الْجَدُّ غِنِّى۔ انہوں نے وزاد سے یہ روایت کی ہے اور حسن ( بصری) نے کہا: جد کے معانی ہیں دولتمندی۔ اطرافه ١٤٧٧ ، ٢٤٠٨ ، 597٥، 6330، 6473، 6615، ٧٢٩٢۔ تشریح : الذِّكْرُ بَعْدَ الصَّلوةِ : پہلے تایا جاچکا ہے کہ ماری اجتماع نماز کے امراض میں سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر ذکر الہی کی کیفیات دائمی طور پر پیدا ہوں۔ چنانچہ نماز فریضہ ختم ہونے کے بعد بھی قرآن مجید نے یہ ذکر جاری رکھنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے۔ فرماتا ہے: فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ (النساء:۱۰۴) پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہونے کی حالت میں بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی۔ } (اس تعلق میں کتاب مواقیت الصلاۃ باب نمبر ۲ کی تشریح بھی دیکھئے ) اس باب میں بتایا گیا ہے کہ ذکر الہی کس طرح کیا جاتا تھا جس کے لئے پانچ روایتیں درج کی گئی ہیں۔ روایت نمبر ۸۴۲٬۸۴۱ کا اب مضمون تقریباً ایک ہی ہے۔ یعنی یہ کہ صحابہ کرام نماز کے با ز کے بعد جو ذکر کرتے وہ سنائی دیتا اور اس سے معلوم ہو جاتا کہ نماز ختم ہوگئی ہے۔ روایت نمبر ۸۴۳ میں یہ تصریح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو مالی اور جانی خدمات کرنے کی توفیق نہیں وہ ذکر الہی میں مشغول رہیں اور اس ذکر کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس کے تین حصے ہیں ۔ تسبیح ، تحمید اور تکبیر تسبيح : اللہ تعالیٰ کو ہر نقص سے پاک ٹھہرانا۔ تحميد : ذات باری تعالیٰ کو باہمہ صفت متصف یقین کر کے اس کی حمد کا اقرار کرنا۔ تكبير : الہی عظمت و بڑائی کا اعلان کرنا۔ ذکر الہی کے ہی کے یہ تین حصے ہیں ؛ جو جامع ہیں ساری صفات حُسن ن و احسان و عظمت و کبریائی کے اور جو حقیقی باعث ہیں ان جذبات محبت و اطاعت کو نفس میں پیدا کرنے کے جو ذکر الہی کی روح رواں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذکر کے قائم کرنے والوں کے بارے میں فرمایا : إِنْ أَخَذْ تُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَّنْ سَبَقَكُمْ وَلَمْ يُدْرِكُكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ وَكُنتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ۔ (روایت اس (۸۴۳) سے ظاہر ہے کہ اسلامی جہاد اور اس کے سواد دیگر اعمال صالحہ کا اصل مدعا اور منشاء کیا ہے۔ بنی نوع انسان میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اور اس کی عظمت و کبریائی حقیقی معنوں میں قائم کرنا۔ جہاد اور صوم وصلوٰۃ وغیرہ اعمال صالح یہ سب وسائل و ذرائع ہیں اور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ روحانی کیفیات ان سے بالا ہیں۔ ان کیفیتوں میں سے ذکر الہی بھی ایک کیفیت ہے، جس کا تعلق روح کے تزکیہ سے ہے۔ نماز کے بعد ذکر الہی کے تعلق میں دونوں طرح کی روایات آئی ہیں ۔ تسبیح و تحمید و تکبیر میں سے ہر ایک تینتیس بار یا تینوں مل کر تینتیس بار ۔ امام ابن حجر کے نزدیک حالات کے مطابق تعداد کم و بیش ہو سکتی ہے۔ حَتَّى يَكُونَ مِنْهُنَّ كُلَّهُنَّ ثَلَاثًا