صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 245
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۵ ١٠ - كتاب الأذان وَتُكَبِّرُوْنَ خَلْفَ كُلّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا ہوا ان کے جو اس طرح کریں۔ہر نماز کے بعد تم وَّثَلَاثِيْنَ فَاحْتَلَفْنَا بَيْنَنَا فَقَالَ بَعْضُنَا تینتیس دفعہ تسبیح وتحمید اور تکبیر سے ذکر الہی کیا کرو۔پھر نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا ہم نے آپس میں اختلاف کیا۔بعض نے کہا: تینتیس وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِيْنَ بار سُبْحَانَ اللہ کہا کریں گے۔تینتیس بار اَلْحَمْدُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ تَقُوْلُ سُبْحَانَ اللَّهِ لِلَّهِ اور چونتیس بار اللہ اکبر تو میں ابو صالح کے پاس وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ حَتى يَكُونَ واپس گیا تو انہوں نے کہا: تم سُبْحَانَ اللَّهِ الْحَمْدُ لله الله اكبر کہا کرو۔یہاں تک کہ وہ سب مل کر مِنْهُنَّ كُلَّهنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثُوْنَ۔اطرافه: ٦٣٢٩۔تینتیس بار ہو جائیں۔٨٤٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۸۴۴ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْن نے ہمیں بتایا۔عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے کہ انہوں عُمَيْرٍ عَنْ وَرَادٍ كَاتِبِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے کاتب وزاد سے روایت کی کہ شُعْبَةَ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ نے مجھ سے ایک خط فِي كِتَابِ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى لکھوایا جو حضرت معاویہ کی طرف تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ فِي دُبُر كُلَّ وسلم ہر نماز فریضہ کے بعد کہا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی صَلَاةٍ مَّكْتُوبَةٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا معبود نہیں وہ واحد ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی شَريكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ بادشاہت ہے۔اور اسی کی تمام تعریفیں ہیں۔اور وہ ہر بات پر عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا بڑاہی قادر ہے۔اے اللہ کوئی روکنے والا نہیں جو تو دے اور أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا کوئی دینے والا نہیں جو تو روک دے۔کسی صاحب حیثیت يَنْفَعُ ذَا الْجَدِ مِنْكَ الْجَدُّ۔(مال، حسب و نسب وغیرہ) کو اس کی حیثیت تیرے مقابل پر فائدہ نہیں دے گی۔وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِهَذَا عَنِ اور شعبہ نے کہا: عبدالملک سے یہ حدیث مروی ہے۔