صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 244
صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنتُ أَعْرفُ انْقِضَاءَ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہا: صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِير میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو اللہ اَكْبَرُ سے پہچانا کرتا۔(علی کہتے تھے کہ سفیان نے ہمیں {قَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو قَالَ كَانَ أَبُو مَعْبَدٍ أَصْدَقَ مَوَالي ابن بتایا۔عمرو بن دینار ) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عَبَّاسٍ قَالَ عَلِيٌّ وَاسْمُهُ نَافِدٌ۔اطرافه: ٨٤١ حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلاموں میں سب سے سچے ابو معبد تھے۔علی کہتے تھے اور ان کا نام نافذ تھا ہم ٨٤٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :۸۴۳: محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ معتمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ سے، عبید اللہ سُميّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے کمی سے، سمی نے ابوصالح سے، ابوصالح نے ه قَالَ جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى النَّبِيِّ صلى حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُوْر نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيْمَ محتاج لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ دولت مند لوگ تو الْمُقِيمِ يُصَلُّونَ كَمَا تُصَلَّى اموال کے ذریعہ بلند درجے اور ہمیشہ کی نعمت لے گئے۔جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں۔وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ يَحُجُوْنَ بِهَا وَيَعْتَمِرُوْنَ وَيُجَاهِدُوْنَ وَيَتَصَدَّقُوْنَ قَالَ أَلَا جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں۔ان کے پاس مال بھی بڑھ کر ہیں جس کے ذریعہ سے حج کرتے ہیں اور عمرہ کرتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور صدقہ أُحَدِثُكُمْ بِأَمْرِ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَّمْ يُدْرِكُكُمْ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ جاؤں کہ جس پر تم عمل کرو تو تم ان کو پال جو تم سے آگے وَكُنتُمْ خَيْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ إِلَّا نکل گئے اور پیچھے سے تم کو کوئی بھی نہ مل سکے اور تم ان مَنْ عَمِلَ مِثْلَهُ تُسَبِّحُوْنَ وَتَحْمَدُونَ سب لوگوں سے اچھے رہو، جن کے درمیان تم رہتے ہو، حمدیہ حصہ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۴۱۹)