صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 243
صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان تشریح: مَنْ لَّمْ يَرُدَّ السَّلَامَ عَلَى الْإِمَامِ وَاكْتَفَى بِتَسْلِيمِ الصَّلوة: مالی وسلاموں کے درمیان ایک تیسرے سلام کے قائل ہیں جو امام کے سلام کا جواب ہے۔اس خیال کو رڈ کرنے کے لئے یہ باب باندھا گیا ہے (فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۴۱۸) حضرت عتبان کے الفاظ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِيْنَ سَلَّمَ۔( یعنی پھر آپ نے سلام پھیرا اور ہم نے سلام پھیر اجب آپ نے سلام پھیرا یعنی سلامتی کی دعا کی ) سے تیسرے سلام کا پتہ نہیں چلتا۔سابقہ باب کے عنوان اور تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ مقتدیوں کا سلام امام کے سلام کا جواب نہیں بلکہ ایک مستقل دعا ہے جو اگر نمازی اکیلا بھی ہو تب بھی کی جاتی ہے۔امام بخاری نے اس امر کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے باب ۱۵۳ کو باب ۱۵۴ پر مقدم رکھا ہے۔جس میں سلام کا جواب دینے کی نفی ہے۔بَاب ١٥٥ : الذِّكْرُ بَعْدَ الصَّلَاةِ نماز کے بعد ذکر الہی ٨٤١: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۸۴۱ اسحق بن نصر نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا : ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو أَنَّ أَبَا ابن جریج نے ہمیں بتایا۔کہا: عمرو نے مجھے بتایا کہ مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ابو معبد نے عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں الصَّوْتِ بِالذِكْرِ حِيْنَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ خبر دی کہ جب لوگ نماز فریضہ سے فارغ ہوتے تو مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ نبي کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ذکر الہی بلند صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس كُنْتُ آواز میں کیا جاتا اور حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوْا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ۔جب میں اس ذکر کو سنتا تو مجھے علم ہو جاتا کہ لوگ اس وقت فارغ ہو گئے ہیں۔اطرافه: ٨٤٢۔٨٤٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ :۸۴۲ علی بن عبد اللہ (مدنی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو قَالَ کیا، کہا: سفیان نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ عمرو نے أَبُو مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ ہمیں بتایا ، کہا کہ ابومعبد نے حضرت ابن عباس